Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
203 - 1040
حدیث نمبر 203
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں وہ ہیں جن کا ارادہ بھی ارادہ ہے اور مذاق بھی ارادہ ۱؎ نکاح اور طلاق،اور رجوع ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)اور فرمایا ترمذی نے یہ حدیث حسن غریب ہے ۳؎
شرح
۱؎ یعنی ارادۃً بولے تو بھی واقع ہوجائیں گی اور مذاق دل لگی سے کہے یا ویسے ہی اس کے منہ سے نکل جائے یا کسی اور زبان میں بولے جس سے وہ واقف نہ ہو،بہرحال یہ کلمات اس کے منہ سے نکل جائیں یہ چیزیں واقع ہوجائیں گی بشرطیکہ دیوانگی یا نیند میں نہ کہے بیداری و ہوش میں کہے۔

۲؎ ان تین چیزوں کا ذکر صرف اہتمام کے لیے ہے ورنہ تمام تصرفات شرعیہ جن میں دوسرے کا حق ہوجاتا ہو سب کا یہ ہی حکم ہے لہذا بیع،ہبہ،کرایہ،طلاق،نکاح، طلاق سے رجوع، دانستہ طور پر کرے یا  اس کے منہ سے نادانی کی حالت میں نکل جائیں یعنی یہ عقد منعقد ہوجائیں گے۔ مزاق میں مرد نے عورت سے کہا کہ میں  نے تجھے طلاق دے دی ، یا تجھ  سے نکاح کیا اور عورت نے بھی  مزاق دل لگی میں قبول کےالفاظ کہہ دیئے یا طلاق والی عورت سے دل لگی میں کہا کہ میں نے رجوع کرلیا یا ہنسی مذاق میں کہا میں نے یہ گھر تیرے ہاتھ فروخت یا ہبہ کردیا پس درست ہوگیا اگر یہ حکم نہ ہو تو شریعت کے احکام بے کار ہو کر رہ جائیں ہر شخص بیع یا ہبہ یا طلاق یا نکاح کرکے کہہ دیا کرے کہ میں تو دل لگی میں کہہ رہا تھا۔یہ حدیث معاملات کی اصل اصول ہے جس پر صدہا احکام مرتب ہیں۔(لمعات و مرقات)

۳؎ یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں سے حسن ہے بعض سے غریب لہذا جن لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف کہا غلط کہا چند اسنادوں سے تو ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے اس کی کتاب اﷲ سے بھی تائید ہوتی ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ"۔منافقین نے حضور کی شان میں بکواس بکی تھی،پوچھ گچھ پر بولے کہ ہم تو مذاق کرتے تھے فرمایا بہانہ نہ بناؤ تم کافر ہوچکے۔معلوم ہوا کہ کفر و اسلام عمدًا ومذاقًا ہر طرح ثابت ہوجاتا ہے اور اس پر احکام شرعیہ مرتب ہوجاتے ہیں۔
Flag Counter