Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
193 - 1040
باب الخلع والطّلاق

خلع اور طلاق کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ خلع خ کے پیش لام کے فتح سے بمعنی کپڑے یا جوتے اتارنا،رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا:" فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ"۔شریعت میں عورت کو مال کے عوض طلاق دینا بہ لفظ خلع،اسے خلع کہتے ہیں مثلًا مرد کہے کہ میں نے تجھ سے ایک ہزار روپیہ پر خلع کیا عور ت کہے میں نے قبول کیا یا عورت کہے تو مجھ سے اتنے روپیہ پر خلع کرلے مرد کہے کرلیا یہ ہے خلع۔ہمارے ہاں خلع طلاق بائنہ ہے اور امام احمد ابن حنبل کے نزدیک و امام شافعی کے ایک قول میں خلع فسخ نکاح ہے چونکہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے لباس ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ"اسی لیے اس طلاق کو خلع کہا گیا کہ دونوں خاوند بیوی اس کے ذریعہ اپنا لباس زوجیت اتار دیتے ہیں،طلاق کے معنی ہیں کھل جانا اسی لیے تیز زبانی کو طلاقۃ اللسان کہتے ہیں اور خندہ پیشانی کو طلاقۃ وجہ،چونکہ طلاق کے ذریعہ عورت مرد کی قید نکاح سے کھل جاتی ہے لہذا اسے طلاق کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر 193
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت ثابت ابن قیس کی بیوی ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ابن قیس کی عادت میں دین میں اعتراض نہیں کرتی ۲؎ مگر میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں ۳؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ لوٹا دو گی ۴؎ وہ بولیں ہاں ۵؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باغ قبول کرلو اور انہیں ایک طلاق دے دو۶؎ (بخاری)
شرح
۱؎ ثابت ابن قیس ابن شماس پستہ قد قدرے سیاہ فام تھے،ان کی بیوی حبیبہ بنت سہل یا جمیلہ یعنی عبداللہ ابن اُبی کی بہن بہت خوبصورت دراز قامت تھی یہ اپنے خاوند کی شکل وصورت پسند نہ کرتی تھیں۔(از مرقات و اشعہ)

۲؎ یعنی ان کی عادت بھی اچھی ہے اوریہ دیندار بھی ہیں،سبحان ا ﷲ! یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی حق گوئی کہ جس سے ناراض ہوں اس کو بہتان نہیں لگاتے۔

۳؎ یعنی مجھے یہ پسند نہیں لہذا میں یہ نہیں کرسکتی کہ دل سے ناپسند کروں اور زبان سے انہیں اچھا کہے جاؤں کہ یہ تقیہ ہے اور اسلام کے خلاف ہے میں ان کے ساتھ رہنے پر راضی نہیں اس ناراضی کی وجہ ان حضرت ثابت کا خوب صورت نہ ہونا تھا۔(اشعہ)

۴؎ کھجور کا وہ باغ جو تم کو انہوں نے مہر میں دیا ہے۔معلوم ہوا کہ بہتر یہی ہے کہ خاوند خلع میں مہریا اور کوئی اپنی دی ہوئی چیز ہی واپس لے زیادہ نہ مانگے۔

۵؎ معلوم ہوا کہ خلع میں اگر مرد کی طرف سے ابتداء ہو تو عورت کا قبول کرنا ضروری اور اگر عورت کی طرف سے ابتدا ہو تو مرد کا قبول کرنا لازم ہے آج کل جو عورتیں دھڑا دھڑ بذریعہ کچہری سے تنسیخ نکاح کرالیتی ہیں مرد راضی نہیں ہوتا اور اسے خلع کہتی ہیں محض غلط ہے۔

۶؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خلع میں عورت کا کام ہے مال دینا اور مرد کا کام طلاق دینا۔دوسرے یہ کہ خلق طلاق ہے فسخ نکاح نہیں۔تیسرے یہ کہ خلع میں بھی ایک طلاق بائنہ ہی دیجائے تین طلاقیں نہ دے تاکہ اگر پھر عورت و مرد راضی ہوں تو پھر نکاح کرسکیں۔
Flag Counter