۱؎ اعطی مجہول فرما کر ادھر اشارہ فرمایا کہ یہ چاروں نعمتیں صرف اپنی کوشش سے نہیں ملتیں بلکہ خاص عطاء رب ذوالجلال ہیں لہذا جسے یہ نعمتیں ملیں وہ انہیں اپنا کمال نہ سمجھے رب کی عطا سمجھ کر شکریہ ادا کرے چونکہ ان چاروں چیزوں کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی اس لیے ارشاد ہوا کہ اسے دین و دنیا کی بھلائی مل گئی۔
۲؎ اگر چہ شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور ذکر اﷲ دل سے بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ دل کا شکر زبانی شکر سے اعلیٰ ہے اور زبانی ذکر کا تبین فرشتوں کی تحریر میں آتا ہے اور زبانی ذکر ہی نماز کا رکن ہے اسی زبان سے تلاوت قرآن ہوتی ہے اسی لیے خصوصیت سے دلی شکر اور زبانی ذکر کا تذکرہ فرمایا دلی شکر کی حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت کو رب تعالٰی کی طرف سے جانے اور اس نعمت کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے رب تعالٰی نے شکر کی جگہ جگہ بہت تعریف فرمائی ہے"اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا"۔
۳؎ اگرچہ صبر بھی دل سے ہی ہوتا ہے مگر اس کا تعلق سارے جسم سے ہے،اس لیے صبر کو پورے جسم کی طرف نسبت فرمایا مصیبتوں میں زبان سے بکواس نہ کرنا، آنکھوں سے بے صبری کے آنسو نہ بہانا، ہاتھ پاؤں سے بے صبری کا اظہار نہ کرنا،جسم کا صبر ہے۔
۴؎ بیوی اکثر اپنے خاوند کے مال کی امینہ و محافظہ ہوتی ہے اور اکثر مال اس کے پاس رہتا ہے نیز خود بیوی خاوند کی امانت ہے،اسی لیے نفسہا فرمایا اور بعد میں مالہ یعنی بغیر خاوند کی اجازت نہ کہیں جائے نہ کسی سے تعلق رکھے،اس کا مال اس کی ہی اجازت سے خرچ کرے ایسی بیوی اﷲ کی نعمت ہے پارسا عورت خاوند کو بھی پرہیزگار بنادیتی ہے۔