Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
194 - 1040
حدیث نمبر 194
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو بحالت حیض طلاق دیدی ۱؎ تو حضرت عمر نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں بہت ناراض ہوئے ۲؎ پھر فرمایا وہ رجوع کرلیں پھر اسے روکیں ۳؎ حتی کہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے ۴؎ پھر اگر ان کی رائے اسے طلاق دینے کی ہو تو پاکی کی حالت میں انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دیں ۵؎ پس یہ ہی وہ عدت ہے کہ اﷲ نے حکم دیا کہ عورتوں کو اس لحاظ سے طلاق دی جائے ۶؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انہیں حکم دو وہ رجوع کرلیں،پھر انہیں پاکی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اس حالت میں طلاق دی جب بیوی کو حیض آرہا تھا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو بحالت حیض طلاق دینا حرام ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض نہ ہوتے اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

۳؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بحالت حیض طلاق دینا اگرچہ حرام ہے مگر وہ طلاق واقع ہوجائے گی ورنہ رجوع کرنے کے کیا معنی ؟یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک یا دو طلاق رجعی ہوتی ہیں کہ عدت کے اندر خاوند رجوع کرسکتا ہے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۴؎ یعنی طلاق والے حیض کے بعد جو طہر آئے اس میں طلاق نہ دیں بلکہ اس طہر کے بعد حیض آئے پھر اس دوسرے حیض کے بعد جو طہر آئے اس میں طلاق دیں۔بعض علماء کا یہ ہی مذہب ہے کہ حیض میں طلاق دینے والااس طلاق سے رجوع کرے پھر اگر طلاق دینا چاہے تو اس کے متصل طہر میں بھی طلاق نہ دے یہ طہر اس طلاق والے حیض کے تابع ہے اگر طہر میں طلاق دے گا تو گویا حیض ہی میں طلاق دے رہا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس متصل طہر میں طلاق دے سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی اس لیے تھاکہ شاید اس طہر میں ساتھ رہنے بسنے سے دل مل جائے اور پھر طلاق کی ضرورت پیش نہ آئے یہ مشورہ مصلحت کی بنا پر ہے اس کی اور بھی حکمتیں بیان کی گئی ہیں مگر یہ زیادہ قوی ہے۔(از نووی شرح مسلم و مرقات و لمعات)غرضکہ یہ حکم شرعی نہیں بلکہ رائے ہے جس پر عمل مستحب ہے۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ جس طہر میں طلاق دینا ہو اس میں عورت سے صحبت نہ کرے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں۔

 ۶؎ یعنی قرآن کریم جو فرماتاہے:"فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ"اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ طلاق طہر میں دو اور طہر بھی وہ ہے جس میں صحبت نہ کی ہو۔خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں لِعِدَّتِہِنَّ کالام بمعنی فی نہیں بلکہ بمعنی اجل ہے یعنی انہیں عدت کے لحاظ سے طلاق دو صحبت سے خالی طہر میں تاکہ عدت معلوم رہے کہ اس کی عدت حیض ہے یا وضع حمل،امام شافعی کے ہاں یہ لام بمعنی فی ہے یعنی انہیں عدت کے زمانہ میں طلاق دو اس بنا پر وہ فرماتے ہیں کہ عدت غیر حاملہ کی طہر ہے ہمارے ہاں حیض۔

 ۷؎ معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کو طلاق دینا جائز ہے اس کی عدت حمل جن دینا ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ رجعت میں عورت کی رضا ضروری نہیں اگر عورت رجوع سے ناراض بھی ہو خاوند رجوع کرسکتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ"۔خیال رہے کہ بہتر یہ ہی ہے کہ مرد صرف ایک ہی طلاق دے وہ بھی ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ ہوئی ہو اور اگر تین طلاقیں دینا ہی ہوں تو ہر طہر میں ایک طلاق دے،عدت پہلی طلاق سے شروع ہوگی، ایک دم تین طلاقیں دے دینا حرام ہے لیکن اگر دے دیں تو واقع ہوجائیں گی جیسے بحالت حیض طلاق دینا حرام لیکن اگر دے تو واقع ہوجائے گی اس کے لیے ہماری کتاب"تلاق الادلۃ فی الطلاق الثلثۃ"کا مطالعہ کیجئے۔
Flag Counter