| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مہاجرین و انصار کی ایک جماعت میں تھے کہ ایک اونٹ آیا اس نے آپ کو سجدہ کیا ۱؎ تو حضور کے صحابہ نے عرص کیا یارسول اﷲ آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں ۲؎ تو ہم زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں ۳؎ تو فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو۴؎ اور اپنے بھائی کی تعظیم کرو ۵؎ اور اگر میں کس کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۶؎ اور اگر خاوند حکم کرے کہ پہلے پہاڑ سے کالے پہاڑ کی طرف اور کالے پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف کو منتقل کرے تو بیوی کو چاہیے کہ ایسا ہی کرے ۷؎(احمد)
شرح
۱؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو جانوروں درختوں نے اس لیے سجدہ کیے کہ وہ رب تعالٰی کی طرف سے اس کے مامور تھے جیسے فرشتے سجدہ آدم کے لیے مامور تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جانور اور درخت بھی حضور کی عظمت جانتے پہچانتے ہیں جو انسان ذی عقل ہو کر انہیں اپنا جیسے کہے اپنے میں اور نبی میں فرق نہ کرے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں ہر چیز کو عقل سے پہچانو،مگر جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو عشق سے مانو،عقل والا ابوجہل نہ پہچان سکا،بے عقل اونٹ پہچان گئے۔شعر بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ۲؎ معلوم ہوا کہ یہ سجدہ صرف ایک بار ہی نہ ہوا بلکہ جانوروں،لکڑیوں کے سجدے بارہا ہوتے رہتے تھے جسے حضرات صحابہ دیکھتے تھے اسی لیے تسجد مضارع استمراری ارشاد ہوئی۔ ۳؎ کیونکہ اونٹ بے عقل ہے ہم انسان ہیں عقل رکھتے ہیں اپنے محسن کو جانتے پہچانتے ہیں نیز بمقابلہ جانوروں اور دوسری مخلوق کے آپ کے احسانات انسان پر خصوصًا ہم پر بہت زیادہ ہیں تو ہم اگر آپ کو سجدہ نہ کریں تو بہت ناشکرے ہیں۔ ۴؎ یعنی تمام عبادات میں نماز اعلیٰ ہے اور تمام ارکان نما زمیں سجدہ افضل لہذا سجدہ صرف رب تعالٰی کو ہی کرنا چاہیے غیر خدا کو ہر گز سجدہ نہ کرو۔(مرقات) ۵؎ بھائی سے مراد اپنی ذات ہے یعنی میری تعظیم و توقیر کرو حضور کا اپنے کو بھائی فرمانا تواضع و انکساری کے لیے ہے،ورنہ آپ کی نعلین پر تمام جہان کے ماں باپ قربان(از مرقات)حضور بہت سے احکام میں امت کے والد ہیں اسی لیے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں،بھابیاں نہیں،مطلب یہ ہے کہ میں تمہاری طرف خالص بشر اولاد آدم ہوں،نہ خدا ہوں نہ خدا کا بیٹا اور سجدہ صرف خدا کے لیے چاہیے تو پھر سجدہ کیسے کرسکتے ہو ۔خیال رہے کہ یہاں اکرموا امر ہے وہ بھی مطلق جس میں کوئی قید نہیں جس سے معلوم ہوا کہ سوا سجدہ وغیرہ عبادات کے باقی ہر طرح کی تعظیم و تکریم کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ"لہذا ہر تعظیم حضور کی کی جائے،امام بوصیری قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں۔شعر دع ما ادعتہ النصاری فی نبیھم واحکم بما شئت من شرف ومن عظم فان فضل رسول اﷲ لیس لہ حد فیعربہ ناطق بفم یعنی جو عیسائیوں نے اپنے نبی کے متعلق کہا وہ تو نہ کہو باقی جو چاہو کہو تعظیم و توقیر کے الفاظ کہو کیونکہ حضور کے فضائل کی حد ہی نہیں جسے کوئی بولنے والا بول سکے۔ ۶؎ یعنی خاوند کا اتنا بڑا درجہ ہے کہ اگر کسی بندے کو سجدہ ہوتا تو بیوی خاوند کو سجدہ کرتی لامرت متکلم فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور مالک احکام ہیں واجب و فرض آپ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے اس کے لیے ہماری کتاب سلطنت مصطفی دیکھئے۔ ۷؎ یہ فرمان مبارک مبالغہ کے طور پر ہے،سیاہ و سفید پہاڑ قریب قریب نہیں ہوتے بلکہ دور دور ہوتے ہیں مقصد یہ ہے کہ اگر مشکل سے مشکل کام کا بھی حکم دے تب بھی بیوی اسے کرے کالے پہاڑ کا پتھر سفید پہاڑ پر پہنچناناسخت مشکل ہے کہ بھاری بوجھ لے کر سفر کرنا ہے۔یہاں مرقات نے بحوالہ احمد و نسائی حضر ت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ ایک انصاری کا اونٹ دیوانہ ہوگیا جو کتے کی طرح ہر ایک کو کاٹنے دوڑتا تھا اور انصاری نے حضور سے شکایت کی آپ اس اونٹ کے پاس تشریف لے گئے اس اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا سرکار صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کام میں لگادیا وہ لگ گیا تب صحابہ کرام نے یہ عرض کیا اور یہ جواب ملا اس کا واقعہ بہت دراز ہے۔