Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
188 - 1040
حدیث نمبر 188
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی اور ہم حضور کے پاس تھے بولی میرا خاوند صفوان ابن معطل ۱؎ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوادیتا ہے اور فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتی کہ سورج نکل آتا ہے ۲؎ فرماتے ہیں صفوان حضور کے پاس تھے فرماتے ہیں حضور نے اس بیان کے متعلق ان سے پوچھا ۳؎ وہ بولے یارسول اﷲ لیکن اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے تو ایسی دو سورتیں پڑھتی ہیں جن سے میں نے اسے منع کیا ہے ۴؎راوی فرماتے ہیں تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر ایک سورہ ہوتی تو لوگوں کو کافی ہوتی ۵؎ بولے کہ رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو توڑوا دیتا ہے تو یہ شروع ہوجاتی ہے تو روزہ ہی رکھتی رہتی ہے اور میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کرسکتا ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عورت روزہ نہ رکھے بغیر خاوند کی اجازت کے ۷؎ رہا اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے تک نماز نہیں پڑھتا۔تو ہم لوگ ایسے گھرانے والے ہیں کہ یہ بات ہماری مشہور ہے جانی پہچانی سورج نکلنے تک نہیں جاگ سکتے ۸؎ فرمایا اے صفوان جب تم لوگ جاگو تو نماز پڑھ لیا کرو ۹؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ کی کنیت ابو عمر ہے سلمی ہیں،خندق اور تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے بہت بڑے بہادر متقی تھے،آپ ہی کی طرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نازیبابات منسوب کی گئی تھی جس کی تردید قرآن کریم نے کی،غزوہ آرمینیہ میں    ۱۹ھ؁ میں شہید ہوئے،ساٹھ سال سے زیادہ عمر شریف ہوئی،بڑے باخبر بزرگ ہیں۔(اکمال،اشعہ)

۲؎ اس سے معلو م ہوا کہ بیوی اپنے خاوند کی شکایت حاکم کے سامنے کرسکتی ہے یوں ہی خاوند کے والدین سے بھی اس کی شکایت جائز ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ محض مدعی کے بیان پر حاکم فیصلہ نہ کرے بلکہ مدعی علیہ کے بیان ضرور لے۔

۴؎ یعنی میری یہ بیوی ایک یا دو رکعت نماز میں بہت دراز سورتیں پڑھتی ہے،مثلًا رکعت اول میں سورہ بقرہ پوری اور دوسری رکعت میں پوری سورہ آل عمران جس سے گھر کے کام کاج اور میری خدمت میں سخت حرج واقع ہوتا ہے میں نے اسے چھوٹی سورتیں پڑھنے کو کہا ہے۔

۵؎ کانت کا اسم ھی ضمیر ہے جو قرأۃ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان بی بی صاحبہ کی قرأت ایک چھوٹی سورۃ ہی ہوتی تو کافی ہوتی،قرآن مجید کی ایک چھوٹی سورۃ تمام جہان کو کافی ہے یا یہ مطلب ہے کہ چھوٹی سورۃ تمہارے گھر کے سارے لوگوں کو کافی ہوتی کہ اس بی بی کی نماز ہوجاتی گھر کے کام کاج میں حرج نہ ہوتا،سب گھر والوں کے تمام کام بخوبی انجام پا جاتے۔

۶؎ یعنی یہ بی بی لگاتار نفلی روزے رکھتی رہتی ہے کبھی افطار ہی نہیں کرتی  ،میں اکثر رات میں اپنی کھیتی باڑی کا کام کرتا ہوں  مجھے دوپہر وغیرہ میں اس کی حاجت ہوتی ہے۔

۷؎ یعنی بیوی بغیر خاوند کی اجازت نفلی روزے نہ رکھے کہ اس میں خاوند کو تکلیف ہوتی ہے اس کا حق مارا جاتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ تو فرماتی ہیں کہ میں رمضان کی قضا شعبان کے مہینے سے پہلے نہ کرسکتی تھی شعبان میں اکثر حضور کے روزے ہوتے تھے تب میں قضا کیا کرتی تھی حالانکہ وہ روزے تو فرض تھے۔

۷؎ یعنی ہم لوگ کھیتی و باغ والے ہیں رات بھر پانی دیتے ہیں،آخر رات میں سوتے ہیں اس لیے دن چڑھے آنکھ کھلتی ہے ہم معذور ہیں۔

۹؎ یہاں شارحین حدیث نے بہت غوطے کھائے ہیں،کہتے ہیں کہ حضرت صفوان رات بھر کھیت و باغ کو پانی دے کر آخر شب میں کھیت پر ہی سوجاتے تھے نہ ان کی آنکھ کھلتی تھی نہ وہاں کوئی جگانے والا ہوتا تھا اس لیے مجبور تھے مگر اس توجیہ پر آج تو ترک نماز کے دروازے کھل جائیں گے لوگ کہیں گے کہ ہم رات کو سفر میں جاگتے ہیں یا رات بھر پہرہ دیتے ہیں ہم خواہ مخواہ نماز فجر قضا کردیا کریں،بہانے بنا نے والے نماز،روزہ حج وغیرہ چھوڑنے کے لیے بہانہ بنالیں گے اور منکرین حدیث کو اعتراض کا موقعہ ملے گا فقیر گنہگار کہتا ہے کہ یہ اجازت حضرت صفوان کے لیے خاص ہے،کرم کریمانہ سے ان کے لیے قضا کو ادا بنادیا گیا،حضور نے تو ایک صاحب پر تین نمازیں معاف فرمادیں،ان پر دو ہی نمازیں فرض رہیں،حضرت علی نے حضور کی نیند پر نماز عصر قربان فرمادی،حضور چاہیں قضا کو ادا کردیں ادا کو قضا کردیں،قانون اور ہے خصوصیت کچھ اور یہ نفیس تحقیق ہماری کتاب سلطنت مصطفی میں دیکھئے لہذا ہم میں سے کوئی حضرت صفوان کی طرح نہیں ہوسکتا،دنیاوی کاموں کی وجہ سے عبادات قضا نہیں کرسکتے دین کے لیے دنیا چھو ڑ دو دنیا کے لیے دین نہ چھوڑو ان خصوصیات کی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔
Flag Counter