۱؎ بشرطیکہ خاوند مار کر شرائط و حدود کا لحاظ رکھے کہ بلا قصور نہ مارے ضرورت سے زیادہ نہ مارے،عداوت سے نہ مارے اصلاح کے لیے مارے تو خاوند پر اس مار کی پکڑ نہ ہوگی کیونکہ اس کی اجازت قرآن کریم نے دی رب تعالٰی فرماتاہے:" وَاضْرِبُوۡہُنَّ"مگر ساتھ میں قید لگاتا ہے"فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا"اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر زیادتی نہ کرو۔خیال رہے کہ باپ اولاد کو بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو،نبی امتی کو،استاد شاگرد کو،پیر مرید کو اصلاح کے لیے مار سکتا ہے۔اگرغلطی سے بھی سزا دے دے تب بھی بڑے پر قصاص نہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے غلطی سے حضرت ہارون علیہ السلام کے بال نوچ کر اپنی طرف کھینچ لیا بعد میں پتہ لگا کہ وہ بے قصور ہیں تو رب تعالٰی نے انہیں قصاص دینے کا حکم نہ دیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعص موقعہ پر اپنے کو قصاص کے لیے پیش فرمایا وہ ہماری تعلیم کے لیے تھا ورنہ حضور پر قصاص کیسا۔اگر بادشاہ یا قاضی غلطی سے کسی ملزم کو سزا دے دے تو ان پر قصاص نہیں،حضور کی شان تو کہیں اعلیٰ ہے۔