روایت ہے حضرت قیس ابن سعد سے فرماتے ہیں میں حیرہ گیا ۱؎ وہاں لوگوں کو دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں ۲؎ تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۳؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میں حیرہ پہنچا تو انہیں دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۴؎ تو فرمایا بتاؤ تو اگر تم میری قبر پر گزرو تو کیا تم قبر کو سجدہ کرو گے ۵؎ میں نے عرض کیا نہیں تو فرمایا یہ بھی نہ کرو اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ کسی کو سجدہ کرے تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں ۶؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی نے خاوندوں کا ان پر حق قرار دیا(ابوداؤد)۷؎ احمد نے معاذ ابن جبل سے روایت کیا۔احمد نے معاذ ابن جبل سے روایت کیا۔
شرح
۱؎ آپ سعد ابن عبادہ کے فرزند ہیں انصاری خزرجی ہیں،دس سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پاک میں رہے،حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے ۶۰ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی حیرہ کوفہ سے ملا ہوا مشہور شہر ہے۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ حیرہ کے باشندے مشرکین تھے جو اپنے بادشاہ سردار کو تعظیمی سجدہ کرتے تھے۔ ۳؎ کیونکہ تمام خلق سے افضل ہیں،اور تمام کے محسن اعظم،جب وہ ایک علاقہ کے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم جہاں بھر کے سردار کو سجدہ کیوں نہ کریں۔ ۴؎ لہذا آپ ہم کو سجدہ کی اجازت دیں کہ آپ کو سجدہ کیا کریں۔ ۵؎ اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ سجدہ اسے لائق ہے جس کو نہ موت آئے نہ اس کی قبر ہو،ہمیشہ زندہ رہے وہ صرف رب تعالٰی کی ذات ہے بندہ آج زندہ ہے زمین پر ہے کل بعد وفات زمین میں ہوگا جب بعد موت قبر کو سجدہ نہیں ہوسکتا تو زندگی میں بھی سجدہ نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہو اکہ قبر کو سجدہ کرنا حرام ہے اس پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے۔ ۶؎ یعنی اگر سوائے خدا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو بیوی اپنے خاوند کو سجدہ کرتی،کیونکہ خاوند کے حقوق بھی عورت پر بہت ہیں اور احسانات بھی زیادہ ہیں جب عورت خاوند کو سجدہ نہیں کرسکتی تو اور کوئی بھی کسی بندی کو سجدہ نہیں کرسکتا۔خیال رہے کہ سجدہ عبادت کسی دین میں بھی غیر خدا کو جائز نہ تھا مگر سجدہ تعظیمی بعض گزشتہ دینوں میں جائز تھا جیسے یعقوب علیہ السلام اور ان کے گیارہ بیٹوں نے یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ہمارے اسلام میں یہ سجدہ بھی حرام ہے۔ اس حدیث سے وہ جاہل پیر عبرت پکڑیں جو اپنے مریدین سے اپنے کو سجدہ کراتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سجدہ حرام ہوا تو کسی کو کیسے جائز ہوگا۔ ۷؎ یہ حدیث احمد نے حضرت معاذ سے اور حاکم نے حضرت بریدہ سے روایت کی،بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں کو سجدہ کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے اور ممانعت صرف ظنی احادیث سے جو مسلم،بخاری کی بھی نہیں لہذا ان احادیث کا اعتبار نہیں۔قرآن کے مقابل خبرو احد غیر معتبر ہے اس کا نہایت نفیس جواب ہم نے اپنے حاشیہ القرآن میں دیا ہے۔غیر اﷲ کو سجدہ تعظیمی کی ممانعت کی احادیث متواتر المعنی ہیں اور اس کے جواز کی آیات قطعی الثبوت تو ہیں قطعی الدلالت نہیں یعنی دوسری شریعتوںمیں سجدہ تعظیمی کا جواز بطور قطعی نہیں ہوتا۔حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کسی شریعت کا حکم نہ تھا کہ اس وقت دنیا میں نہ شریعت آئی تھی نہ نبی کی نبوت اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا حکم شرعی نہ تھا بلکہ خواب کی تعبیر پوری کرنے کے لیے تھا،جیسے فرزند کا ذبح کردینا دین ابراہیمی کا مسئلہ نہ تھا بلکہ خواب کی تعبیر پوری کرنے کو کہا تھا۔اگر مان لیا جائے کہ وہ سجدہ شریعت یعقوبی کا مسئلہ تھا تو چاہیے کہ آج پیر مریدوں کو سجدہ کریں کہ نہ مرید پیر کو،کیونکہ افضل نے مفضول کو سجدہ کیا تھا۔یعنی یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزند کو۔