Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
185 - 1040
حدیث نمبر 185
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک ۱؎ یا حنین سے ۲؎ واپس تشریف لائے ام المؤمنین کے طاق میں پردہ تھا،ہوا چلی جس نے پردہ کے کنارہ نے حضرت عائشہ کے کھیل کی گڑیا کھول دیں ۳؎ تو حضور نے فرمایا عائشہ یہ کیا ہے ؟ بولیں میری گڑیاں ہیں آپ نے ان کے درمیان ایک گھوڑادیکھاجس کے کپڑے کے دو پر تھے تو فرمایا یہ کیا  ہے جسے ہم بیچ میں دیکھ رہے ہیں؟ بولیں گھوڑا ہے فرمایا اس کے اوپر کیا ہے ؟ میں بولی دو پر ہیں فرمایا کیا گھوڑے کے پر ہیں؟ بولیں کیا آپ نے نہ سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے ۴؎ فرماتی ہیں کہ حضور ہنسے حتی کہ میں نے آپ کی کچلیاں دیکھ لیں ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ تبوک مدینہ منورہ اور دمشق(شام)کے درمیان ایک مشہور جگہ ہے یہ غزوہ          ۹ھ؁ میں ہوا،آخری غزوہ یہ ہی ہے۔اسی غزوہ کا نام غزوہ عسرت یعنی سخت تنگی کا غزوہ ہے،بخاری شریف نے اسے بعد حجتہ الوداع لکھا ہے،یہ غلط ہے شاید کاتبِ کی غلطی ہے(مرقات)

۲؎ حنین مکہ معظمہ و طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے ذوالمجاز کے قریب ہے آج کل اسے سہل کہتے ہیں،فقیر نے طائف جاتے ہوئے اس کی زیارت کی یہ غزوہ      ۸ھ؁ میں فتح مکہ کے بعد ہوا۔

۳؎  سہوہ کا ترجمہ بعض لوگوں نے الماری کیا ہے مگر طاق نہایت صحیح کیونکہ اکثر بچیاں اپنی گڑیاں کھلونے طاقوں میں ہی رکھتی ہیں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ گڑیاں لڑکیوں کے لیے کھیل بھی ہے،تعلیم بھی اس سے وہ کھانا پکانا سینا،پرونا بخوبی سیکھ جاتی ہے۔ام المؤمنین لڑکپن میں ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر شادی ہو کر آئی تھیں۔

۴؎ حضرت ام المؤمنین نے ہوا کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا گھوڑا قرار دیا۔اور ظاہر ہے کہ ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے چلتی تھی۔رب تعالٰی فرماتاہے:"تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"اسے اڑانا قرار دیا اور اس سے اپنے گھوڑے کی سند بتائی،سبحان اﷲ چھوٹی عمر اور اتنا نفیس جواب،خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ صدیقہ سے نکاح دسویں سال نبوت یعنی ہجرت سے تین سال پہلے مکہ معظمہ میں دسویں شوال کو کیا،اس وقت آپ کی عمر چھ سال تھی اور یہ غزوہ      ۸ھ؁ اور     ۹ھ؁ میں ہوئے،اگرچہ اس وقت آپ بالغہ تھیں مگر عمر یقینًا کچی تھی اسی لیے گڑیاں بناتی اور ان سے کھیلتی تھیں۔

 ۵؎ یعنی آپ نے میرے اس جواب پر تبسم فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عمل جائز تھا بعض علماء فرماتے ہیں ان گڑیوں اور اس گھوڑے کے آنکھ ناک کان نہ تھے صرف چیتھڑوں کے مجسمہ تھے اور ان اعضاء کے بغیر تصویر نہیں کہلاتی۔لہذا جائز تھی،بعض نے فرمایا کہ یہ واقعہ کھیل کی حرمت آنے سے پہلے کا ہے،مگر ترجیح اس کو ہے کہ بچوں کے کھلونوں کے احکام ہلکے ہیں۔(اشعہ)
Flag Counter