| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ کی بندیوں کو نہ مارو ۱؎ پھر جناب عمر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بولے عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہوگئیں ۲؎ تب انہیں مارنے کی اجازت دی ۳؎ پھر بہت سی عورتوں نے اہل بیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر چکر لگائے ۴؎جو اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی تھیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہماری اہل بیت پر بہت عورتیں چکر لگارہی ہیں اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی ہیں یہ لوگ تم میں اچھے نہیں ۵؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی جیسے مرد اﷲ کے بندے ہیں ایسے ہی عورتیں اﷲ کی بندیاں ہیں جیسے مولیٰ اپنے غلام کو مارنے والے پر ناراض ہوتا ہے ایسے ہی اﷲ تعالٰی ظلمًا مارنے والے پر ناراض ہوگا نہ کسی مرد کو مارو نہ عورت کو۔ ۲؎ یہاں النساء ذئرن کا فاعل نہیں ہے ورنہ فعل واحد آتا بلکہ فاعل کا بدل ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:" اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ‘‘ مطلب یہ تھا کہ جب عورتوں کو پتہ لگ گیا کہ ہمارے خاوند ہم کو قطعًا مارسکتے نہیں،تو وہ کچھ دلیر سی ہوگئیں۔ ۳؎ معلوم ہوتا ہے کہ اولًا قصور پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی اب قصور پر مارنے کی اجازت دی گئی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں۔ ۴؎ یہاں آل سے مراد بیویاں ہیں،قرآن شریف میں آل بیویوں کو ہی کہا گیا ہے بیویاں اہل بیت سکونت ہوتی ہیں اور بچے اہل بیت ولادت یعنی عورتیں براہ راست بارگاہ نبوی میں حاضری کی تو ہمت نہ کرسکیں اس لیے ازواج پا ک کی خدمت میں حاضر ہو کر بالواسطہ اپنے خاوندوں کی شاکی ہوئیں ۔ ۵؎ خلاصہ یہ ہے کہ قصور مند بیوی کو اصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اصلاح کرنا بہتر ہے بلا قصور مارنا حرام جس پر پکڑ ہوگی،یونہی بہت مارنا بے دردی سے یہ حرام ہے،بیوی کی سختی برداشت کرنا،یونہی خاوند کی سختی جھیلنا اور نباہ کرنا بڑے اجر کا باعث ہے۔ ۶؎ یہ حدیث حاکم نے ایاس ابن عبداﷲ ابن ابی ذباب سے نقل فرمائی(مرقات)