Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
180 - 1040
حدیث نمبر 180
روایت ہے حضرت لَقیط ابن صبرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ ہے یعنی بدزبانی یا تیز زبانی ۲؎ فرمایا اسے طلاق دے دو میں نے عرض کیا کہ اس میں سے میرے بچے ہیں،اور اسے میری پرانی صحبت ہے ۳؎ فرمایا تو اسے حکم دو یعنی نصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہوئی تو قبول کرے گی ۴؎ اور اپنی بیوی کو اپنی لونڈی کی سی مار نہ لگاؤ ۵؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ لَقیط ابن عامر ابن صبرہ ہیں،صبرہ آپ کے دادا ہیں،مشہور صحابی ہیں طائف کے رہنے والے(مرقات واشعہ)

۲؎ فرمایئے تیز زبان بیوی کو سزا کیا دی جائے۔حضرات صحابہ حضور کو حکیم مطلق مان کر اپنے گھریلو معاملات تک آپ پر پیش کرکے اصلاح چاہتے تھے۔

۳؎ یہاں طلاق کا حکم اباحت کے لیے ہے،بدزبان بیوی کو طلاق دے دینا مباح ہے ان صحابی کا یہ جواب طلاق سے معذرت کرنے کے لیے ہے کہ اس سے بچے برباد ہوجائیں گے مجھے تکلیف ہوگی۔

۴؎ معلوم ہوا کہ نافرمان بیوی کو وعظ و نصیحت کرنا بہت محبوب ہے،انسان پہلے اپنی اصلاح کرے پھر اپنے گھر والوں کی پھر عزیز و اقارب کی پھر دوسروں کی آج کل عمومًا واعظین وعلماء کی بیویاں ہی زیادہ نافرمان دیکھی گئی ہیں کیونکہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔

۵؎ ظعینہ ظعن سے بنا،سفر در ہودج چونکہ بی بی گھر میں ایسی رہتی ہے جیسے مسافر اونٹ پر ہودج میں اس لیے اسے ظعینہ کہا جاتا ہے امیہ امۃ بمعنی لونڈی کی تصغیر ہے یعنی بیویوں کو لونڈیوں کی طرح مار نہ لگاؤ،اس سے معلوم ہوا کہ معمولی مار کی اجازت ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی کو کبھی نہ مارا۔
Flag Counter