| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عورت کو اس کے خاوند پر یا غلام کو اس کے آقا پر خراب کردے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ خاوند بیوی میں فساد ڈالنے کی بہت صورتیں ہیں: عورت سے خاوند کی برائیاں بیان کرکے دوسرے مردوں کی خوبیاں ظاہر کرے کیونکہ عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہوتا ہے یا ان میں اختلاف ڈالنے کے لیے جادو تعویذ گنڈے کرنے سب حرام ہے اور غلام یا لونڈی کو بگاڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بھاگ جانے پر آمادہ کرے،اگر وہ خود بھاگنا چاہیں تو ان کی امداد کرے،بہرحال دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو توڑو نہ۔