۱؎ یہ حکیم تابعی ہیں قبیلہ بنی قشیر سے ہیں جو قشیر ابن کعب کی اولاد سے ہیں،ا مام نسائی نے فرمایا کہ ان کی حدیث مقبول ہے جامع اصول میں کہا کہ آپ اگرچہ بدوی یعنی دیہات کے رہنے والے ہیں مگر حسن الحدیث ہیں، ان کے والد معاویہ قشیری صحابی ہیں،مگرانہیں صاحبِ مشکوۃ نے اسماء الرجال میں ذکر نہ فرمایا کیونکہ ان کے حالات معلوم نہ ہوسکے،کچھ بھی سہی تمام صحابہ ثقہ عادل ہیں۔
۲؎ یعنی اپنی بیوی کو اپنی حیثیت کے لائق کھلاؤ پہناؤ اور جب خودکھاؤ پہنو تب ہی اسے کھلاؤ پہناؤ ،اگر اپنے لیے دو جوڑے بناؤ تو اس کے لیے بھی، پہناؤ میں لباس جوتہ وغیرہ سب داخل ہیں،زیور اپنی مرضی پر ہے اس کا پہنانا بھی سنت ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو ہار عطا فرمایا تھا اور اپنی لخت جگر فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو کنگن نقرئی اور ہاتھی دانت کا ہار عطا فرمایا۔
۳؎ یعنی قصور کرنے پر اسے مارسکتے ہو مگر چہرے پر نہ مارو کیونکہ چہرہ میں نازک اعضاء ہیں اور انسان کا چہرہ رب کو بڑا ہی محبوب ہے خلق اﷲ آدم علی صورتہ۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ چار جرموں پر خاوند اپنی بیوی کو مار سکتا ہے:ایک بناؤ سنگار نہ کرنے،پاک صاف نہ رہنے پر جب کہ خاوند یہ چاہتا ہو،اور دوسرے بلا وجہ صحبت کے لیے پاس نہ آنے پر،تیسرے نماز روزہ وغیرہ شرعی احکام کی پابندی نہ کرنے پر،چوتھے بغیر اجازت گھر سے نکلنے پر مگراس مار میں اصلاح مقصود ہو نہ کہ ایذاء۔
۴؎ لا یقبّح کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اسے گالیاں نہ دو کہ اس سے تمہاری زبان گندی ہوگی،عورت کی عادت بگڑے گی،کیونکہ گالیاں سننے والا گالیاں بکنے بھی لگتا ہے،دوسرے یہ کہ اسے برے کاموں کا عیب نہ لگاؤ،بے عیب کو عیب لگانے سے وہ عیب دار ہو جاتا ہے۔بلکہ برائی دیکھ کر اکثر چشم پوشی کرلیا کرو۔
۵؎ یعنی اگر تم اس کی اصلاح کے لیے اس سے کلام و سلام بند کرو تو گھر سے باہر نہ نکال دو کہ اس سے وہ اور بھی آزاد ہوجائے گی،بلکہ گھر ہی میں رکھو،کھانا پینا جاری رکھو،صرف بول چال چھوڑ دو،یہ بائیکاٹ ان شاءاﷲ اس کے لیے پوری اصلاح کا ذریعہ ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَاہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ"۔