| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہیں ستاتی کوئی عورت اپنے خاوند کو دنیا میں مگر اس کی حورعین بیوی کہتی ہے ۱؎ کہ خدا تجھے غارت کرے اسے نہ ستا کیونکہ یہ تیرے پاس مہمان ہے بہت قریب تجھے چھوڑ کر ہماری طرف آئے گا ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎
شرح
۱؎ جو اس کے نکاح میں آچکی ہے ملے گی بعد قیامت رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ زَوَّجْنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ"۔ ۲؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حوریں نورانی ہونے کی وجہ سے جنت میں زمین کے واقعات دیکھتی ہیں،دیکھو یہ لڑائی ہو رہی ہے کسی گھر کی بند کوٹھڑی میں اور حور دیکھ رہی ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ دنیا والوں کے ایک ایک عمل پر خبردار ہیں۔ دوسرے یہ کہ حوروں کو لوگوں کےانجام کی خبر ہے کہ فلاں مؤمن متقی مرے گا۔ تیسرے یہ ہے کہ حوروں کو لوگوں کے مقام کی خبر ہے کہ بعد قیامت یہ جنت کے فلاں درجہ میں رہے گا۔ چوتھے یہ کہ حوریں آج بھی اپنے خاوند انسانوں کوجانتی پہچانتی ہیں،پانچواں یہ کہ آج بھی حوروں کو ہمارے دکھ سے دکھ پہنچتا ہے ہمارے مخالف سے ناراض ہوتی ہیں۔جب حوروں کے علم کا یہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم جو تمام خلق سے بڑے عالم ہیں ان کے علم کا کیا پوچھنا،آج لوگ حضور کو حاضر ناظر ماننا شرک کہتے ہیں،یہاں سے معلوم ہوا کہ حور حاضر ناظر ہے،چھٹے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جنت کے حالات حوروں کے کلام سے خبردار ہیں جب ہی حور کا یہ کلام نقل فرمارہے ہیں وہ ہے حور،حضور ہیں نور،صلی اللہ علیہ و سلم ہر حور دنیا کے ہر گھر کے ہر حال سے خبردار ہے مگر یہ کلام وہ ہی حور کرتی ہے جس کا زوج اس گھر میں ہو۔ ۳؎ یعنی ترمذی کی روایت میں یہ حدیث غریب ہے ابن ماجہ کی روایت میں نہیں مگر یہ غرابت مضر نہیں کیونکہ اس حدیث کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے،رب تعالٰی فرشتوں کے متعلق فرماتاہے:" یَعْلَمُوۡنَ مَا تَفْعَلُوۡنَ"تمہارے کام فرشتے جانتے ہیں اور ابلیس و ذریت ابلیس کے متعلق فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ"جب حدیث کی تائید قرآن مجید سے ہوجائے تو ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔