۱؎ یعنی ہمارے شریعت میں غیر خدا کو سجدہ حرام ہے، سجدہ عبادت کفر ہے، سجدہ تعظیم حرام،دوسری شریعتوں میں بندوں کو سجدہ تعظیم جائز تھا۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں کہ فرماتے ہیں اگر میں کسی کو سجدہ کا حکم دیتا اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب سلطنت مصطفیٰ میں دیکھئے۔یہاں حکم سے مراد وجوبی حکم ہے یا استحبابی یا اباحت کا۔
۲؎ کیونکہ خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے،اسی قاعدے سے فقیر کہتا ہے کہ اگر اسلام میں کسی بندے کے لیے سجدہ جائز ہوتا تو میں اپنے نبی کو بلکہ ان کے نام کو سجدہ کرتا۔خیر دل تو ان کو ساجد ہی ہے۔شعر
اے جوش دل گر ان کو یہ سجدہ روا نہیں اچھا وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو