۱؎ یعنی بڑا خلیق وہ ہے جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خلیق ہو کہ ان سے ہر وقت کام رہتا ہے اجنبی لوگوں سے خلیق ہونا کمال نہیں کہ ان سے ملاقات کبھی کبھی ہوتی ہے۔ہم نے اس اخلاق کریمانہ کا نمونہ قائم فرمادیا ہے۔سبحان اﷲ!
۲؎ یعنی خاوند بیوی میں سے جو مرجائے تو اسے دوسرا اچھائی سے یاد کرے برائیاں بیان نہ کرے یا کوئی مسلمان بھائی مرجائے تو اس کے عیوب بیان نہ کیے جائیں کہ مردہ کی غیبت بدترین گناہ ہے کیونکہ اس سے معاف نہیں کراسکتے۔خیال رہے کہ راویان حدیث کے عیوب بیان کرنا غیبت نہیں بلکہ یہ حدیث کی تحقیق ہے۔ غیبت کی تحقیق اور اس کے اقسام و احکام ہمارے فتاویٰ میں ملاحظہ فرمایئے اور کچھ اس کتاب میں بھی عرض کیے جاچکے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں کی غیبت نہ کرو زندہ مسلمان کی غیبت خوب کیا کرو۔