۱؎ یعنی بحالت سفر کسی منزل پر ہم نے قیام کیا میدان تھا،رات کے اندھیرے یا دن میں اکیلے میں میں نے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دوڑ لگائی کہ یہ دیکھیں کون آگے نکل جائے،یہ دوڑ سواری پر نہ تھی پاؤں پر تھی میں آگے نکل گئی حضور نے خود ہی آپ کو آگے نکل جانے دیا ہوگا انہیں خوش کرنے کے لیے۔
۲؎ یہ پتہ نہ لگا کہ یہ دوڑ کس جگہ ہوئی بہرحال کچھ عرصہ کے بعد ہوئی ہو گی اور اس دوڑ میں آپ پیچھے رہ گئیں،یہ ہے اپنی ازواج پاک سے اخلاق کا برتاؤ۔ایسے اخلاق سے گھر جنت بن جاتا ہے،مسلمان یہ اخلاق بھول گئے،خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ لڑکپن میں حضور کے نکاح میں آئیں جب کہ حضور کی عمر شریف پچاس سال کے قریب تھی،اس قدر تفاوت عمر کے باوجود آپ کبھی نہ گھبرائیں کیوں ان اخلاق کریمانہ کی وجہ سے،باقی بیویاں بیوگان اور عمر رسیدہ تھیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ گڑیاں کھلانا دوڑ لگانا،کھیل دکھانا صرف عائشہ صدیقہ ہی سے کیوں ہے دوسری بیویوں سے کیوں نہیں۔
۳؎ یعنی اب کیسے،ہم جیت گئے بدلہ ہوگیا۔فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ چار چیزوں میں دوڑ جائز ہے اونٹ،گھوڑا،تیر اندازی،پیدل،ان میں دو طرفہ مال کی شرط حرام ہے کہ یہ جوا ہے،یک طرفہ جائز ہے کہ انعام ہوں اگرتیسرا کہہ دے کہ تم میں سے جو جیتے گا اسے یہ انعام ملے گا جائز ہے۔