Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
171 - 1040
حدیث نمبر 171
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی تھی کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے ۱؎ پھر جب اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں ہٹائیں جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جن کو علیحدہ کردیا ہے ان میں جسے چاہیں بلالیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ۲؎ تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری فرمانے میں جلدی کرتا ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت جابر کی حدیث کہ عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو حجتہ الوداع کے قصہ میں ذکر کردی گئی ۴؎
شرح
۱؎ یعنی بعض عورتیں بارگاہ رسالت میں عرض کرتی تھیں کہ میں اپنی جان آپ کے سپرد کرتی ہوں میں اسے بے غیرتی سمجھتی تھی کہ عورت یہ جرأت کیسے کرتی ہے کہ اپنے کو مرد پر پیش کرے ؟۔

۲؎ اس آیت کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اے محبوب آپ کو اختیار ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں کہ اس کے لیے باری کوئی مقرر نہ فرمائیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ دوسرے یہ کہ اے محبوب جس عورت سے آپ چاہیں نکاح کریں اور اسے اپنے پاس رکھیں اور جس سے چاہیں نکاح نہ کریں،آپ پر تعداد ازواج کی کوئی پابندی نہیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت کی ناسخ ہے"لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعْدُ"۔

۳؎ ام المؤمنین نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار فرمائی کہ آپ جس قدر عورتوں سے چاہیں نکاح کریں اس سے معلوم ہو کہ حضرت ام المؤمنین کا عقیدہ یہ تھا۔شعر

خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم  		خدا چاہتا ہے رضائے محمد

لہذا اگر حضور ہم جیسے گناہ گاروں کو رب سے بخشوانا چاہیں تو رب تعالٰی ضرور بخش دے گا،کیونکہ وہ حضور کی رضا چاہتا ہیں 	 ؎

تو جو چاہے ابھی میل میرے دل کے دُھلیں	کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا

خیال رہے کہ چند عورتوں نے اپنے کو حضور پر پیش کیا ہے،میمونہ،ام شریک،زینب بنت خزیمہ،خولہ بنت حکیم،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ"الخ(مرقات)

۴؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث اس جگہ تھی میں نے مناسبت کا خیال کر تے ہوئے حجتہ الوداع کے باب میں ذکر کردی۔
Flag Counter