Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
170 - 1040
حدیث نمبر 170
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق آئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت لیں لوگوں کو آپ کے دروازہ پر بیٹھے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ۱؎ فرماتے ہیں کہ ابوبکر کو اجازت مل گئی آپ داخل ہوگئے پھر جناب عمر آئے اجازت مانگی انہیں بھی مل گئی ۲؎ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو غمگین خاموش بیٹھے پایا کہ آپ کی ازواج اردگرد تھیں ۳؎ آپ نے سوچا کہ میں ایسی بات کہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسا دوں۴؎ تو عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم حضور خارجہ کی بیٹی کو ملاحظہ فرماتے ۵؎ کہ اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں اس کی طرف بڑھا اس کی گردن مروڑی ۶؎ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎ اور فرمایا یہ جو میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کرتی ہیں ۸؎ تو ابوبکر عائشہ کی طرف اٹھے ان کی گردن مروڑنے لگے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے وہ ان کی گردن مروڑنے لگے۹؎ یہ دونوں کہتے تھے کیا تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے وہ چیزیں مانگتی ہوجو ان کے پاس نہیں ہیں ۱۰؎ وہ بولیں اﷲ کی قسم ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے کبھی وہ چیز نہ مانگیں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ۱۱؎پھر حضور ازواج سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے ۱۲؎پھر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اے نبی اپنی بیویوں سے فرما دو الیٰ قولہ تم میں سے نیک کار بیویوں کے لیے بڑا ثواب ہے ۱۳؎فرماتے ہیں کہ پھر حضور نے عائشہ سے ابتداء کی ۱۴؎ اے عائشہ تم پر ایک چیز پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو ۱۵؎ آپ بولیں یارسول اﷲ وہ کیا ہے ؟ تب حضور نے ان پر یہ آیت تلاوت کی ۱۶؎ آپ بولیں کیا آپ کے بارے میں یارسول اﷲ میں ماں باپ سے مشورہ کروں بلکہ میں اﷲ رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں ۱۷؎ اور حضور سے عرض ہے کہ اپنی ازواج میں سے کسی بی بی کو نہ بتائیں ۱۸؎ جو میں نے عرض کیا آپ نے فرمایا ان میں سے کوئی بی بی مجھ سے نہ پوچھے گی مگر میں خبر دوں گا ۱۹؎ یقینًا اﷲ نے مجھے نہ مشقت میں ڈالنے والا بھیجا نہ مشقت میں پڑنے والا ۲۰؎ لیکن مجھے بھیجا ہے علم سکھانے والا آسانی کرنے والا ۲۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ واقعہ یہ تھا کہ ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کرتے ہوئے زیادہ خرچہ دینے کے متعلق عرض کیا بعض نے یہ بھی کہا کہ فلاں فلاں کی بیویاں ایسے عمدہ لباس پہنتی ہیں ایسے عیش میں ہیں تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم ایک ماہ تک تم میں سے کسی کے پاس نہ آئیں گے اور بالاخانہ پر تشریف فرما ہوگئے اور تمام صحابہ سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔اس پر مشہور ہوگیا کہ حضور نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی،لوگ گھبرا گئے،اسی گھبراہٹ میں حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق حاضر ہوئے،کیونکہ ان کی صاحبزادیاں بی بی عائشہ صدیقہ اور بی بی حفصہ حضور کے نکاح میں تھیں۔

۲؎ چونکہ اس وقت تک پردہ کی آیات نہ آئی تھیں اس لیے ان دونوں بزرگوں کو ازواج پاک کی موجودگی میں اجازت دے دی گئی۔

۳؎ غالبًا یہ اجتماع عائشہ صدیقہ کے حجرے میں تھا۔

۴؎ یہ ہنسانا بھی عبادت تھا حضور کو خوش کرنا عبادت ہے،جیسے آپ کو غمگین کرنا گناہ،ایسے موقعوں پر جناب عمر ہمیشہ یہ عمل کرتے تھے۔

۵؎ بنت خارجہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ پاک ہیں۔

۶؎ یعنی میری بیوی نے مجھ سے حاجت سے زیادہ جو خرچہ مانگا عیش و طرب کے لیے تو میں نے اسے یہ سزا دی کیونکہ بقدر ضرور ت تو خرچہ میں دیتا ہوں۔

۷؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت فاروق کا یہ عمل پسند فرمایا،پتہ لگا کہ خاوند اپنی زوجہ کو نافرمانی یا بے جا مطالبہ پر سزا دے سکتا ہے،مرد عورت کا حاکم ہے۔

۸؎ یعنی ہمارے ہاں بھی یہ ہی معاملہ درپیش ہے کہ ہماری یہ ازواج ہم سے زیادہ خرچہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔

۹؎ معلوم ہوا کہ والد اپنی جوان شادی شدہ بیٹی کو سزا دے سکتا ہے ان دونوں حضرات نے حضور کی موجودگی میں اپنی صاحبزادیوں سے یہ برتاؤ کیا۔

۱۰؎  شعر 

مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں		دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

بوریا ممنون خواب راحتش		تاج کسریٰ زیر پائے امتش

جہاں کو غنی فرمایا اپنے پاس کچھ نہ رکھا"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔

۱۱؎ یہ ماجرا دیکھ کر تمام ازواج پاک نے بیک زبان یہ وعدہ کیا۔

۱۲؎ کیونکہ حضور اس واقعہ سے پہلے علیحدگی کی قسم اٹھا چکے تھے اس لیے اگرچہ ان بیویوں نے یہ وعدہ کرلیا۔مگر حضور نے اپنی قسم پوری فرمائی۔(مرقات،لمعات)

 ۱۳؎ واقعہ کی ترتیب یہ ہوئی کہ اولًا ازواج مطہرات نے عرصہ تک زیادہ خرچہ کا مطالبہ کیا جس پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایلاء کی قسم اٹھائے پھر حضرت صدیق و فاروق کا یہ واقعہ پیش آیا پھر ازواج پاک نے یہ وعدہ کیا جو یہاں مذکور ہے پھر حضور نے علیحدگی اختیار کی،مدت ایلاء ختم ہونے پر آیت کا نزول ہوا پھر ازواج پاک کو طلاق لینے کا اختیار دیا گیا۔

۱۴؎ کیونکہ عائشہ صدیقہ ان سب میں عالمہ عاقلہ تھیں۔

۱۵؎ چونکہ تم عمر میں چھوٹی ہو اور چھوٹی بچیاں کبھی دنیا کی زیب و زینت پر زیادہ مائل ہوتی ہیں اس لیے والدین سے مشورہ کرکے فیصلہ کرو(مرقات)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ سرکار عائشہ صدیقہ کے اپنے پاس رہنے پر بہت ہی خوش ہیں۔

۱۶؎ جس میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی کی بیویو! اگر تم کو دنیاوی ٹیپ ٹاپ کا شوق ہے تو آؤ میں تم کو طلاق دے دوں اور اگر اﷲ رسول اور قیامت کی بہتری چاہتی ہو تو میرے ساتھ فقر و فاقہ پر قناعت کرو تب ام المؤمنین نے یہ جواب دیا۔

۱۷؎ یہ ہے حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی فراست دانائی،علم و عقل اس سے معلوم ہوا کہ دین و دنیا کا اجتماع نہیں ہوتا۔

۱۸؎ تاکہ ہر بی بی پاک کے علم و عقل کا امتحان ہوجائے۔

۱۹؎ تاکہ وہ پوچھنے والی بی بی تمہاری پیروی کریں جس سے تم کو بھی ثواب ملے۔

۲۰؎ معنت بنا ہے عنۃ سے بمعنی گناہ مشقت،معنت دوسروں کو گناہ یا مشقت میں ڈالنے والا متعنت خود گناہ یا مشقت میں واقع ہونے والا،مطلب یہ ہے کہ دوسری بیویوں کو تمہارے جواب سے ضرور خبردار کروں گا تاکہ ان کے لیے تمہارا جواب مشعل راہ بنے اس جواب کی اشاعت مفید ہے چھپانا ان کے لیے مضر ہوگا۔چنانچہ ان بیویوں نے وہ ہی جواب دیا جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے دیا تھا سب فقر و فاقہ پر راضی ہوگئیں۔اور سب نے حضور کے ساتھ زندگی گزارنے کو اﷲ کی بڑی نعمت سمجھا۔

۲۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ضرورت کے وقت حاکم عالم سلطان اپنے دروازے پر ڈیوڑھی بان کو سنبھال سکتے ہیں ورنہ عمومًا حضور کے دروازے پر حاجت ڈیوڑھی بان نہ ہوتے تھے،کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہونا چاہیے،خواہ خاص دوست ہو یا اجنبی،اپنی جوان اولاد کو باپ سزا دے سکتا ہے اگرچہ اولاد شادی شدہ ہو،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ازواج پاک نے بخوشی اپنی زندگی مسکینیت میں گزاردی۔بالا خانہ پر رہنا درست ہے،خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے یہ اختیار دینا طلاق نہ ہوگا بلکہ اگر بیوی طلاق کو اختیار کرے تب طلاق ہوگی حضرت علی اور زید ابن ثابت و حسن سے جو مروی ہے کہ اختیار طلاق دینا ہی طلاق ہے شاید انہیں یہ حدیث نہ پہنچی(مرقات)
Flag Counter