| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ۱؎ اور آپ کا پاؤں موچ گیا تھا۲؎ تو آپ نے بالا خانہ میں انتیس۲۹ رات قیام کیا ۳؎ پھر نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا،فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ ایلاء بنا ہے ولی سے بمعنی قرب ہمزہ سلب کی ہے یعنی قریب نہ جانا،شریعت میں ایلاء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس چار ماہ تک نہ جانے کی قسم کھالے اس کا حکم یہ ہے کہ یا تو خاوند اپنی قسم توڑ لے کہ اس مدت میں ایلاء سے قولًا یا عملًا رجوع کرکے کفارہ قسم ادا کردے،یا ایلاء پورا کرے اور چارہ ماہ گزرتے ہی طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ایلاء شرعی نہ تھا لغوی تھا کیونکہ ایک ماہ کا تھا اس ایلاء کا واقعہ بہت مشہور ہے کتب احادیث میں مذکور ہے۔ ۲؎ گھوڑے سے گر جانے کی وجہ سے پاؤں شریف میں موچ آگئی تھی یا پاؤں اتر گیا تھا۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ غالبًا نماز میں زیادہ کھڑے رہنے کی وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیا تھا اور تکلیف ہوگئی تھی جسے راوی نے انفکت سے بیان فرمایا۔(مرقات) ۳؎ مشرقہ میم کے فتح رکے پیش سے مشرعہ کی طرح بمعنی بالا خانہ غرفہ جسے پنجاب میں چھتی کہا جاتا ہے وہ بالا خانہ ایسا پر تکلف نہ تھا جیسا آج کل امیروں کا ہوتا ہے یعنی ایلاء کے زمانہ میں سرکار کسی زوجہ پاک کے پاس نہ رہے بلکہ علیحدہ چھتی پر قیام فرمایا۔ ۴؎ یعنی یہ مہینہ انتیس کا ہے آج ہمارے ایلاء کی مدت پوری ہوگئی اور ہم نے اسی مہینہ کا ایلاء کیا تھا ۔علماء فرماتے ہیں جو کسی خاص مہینہ کے روزے کی نذر مانے اور وہ انتیس دن کا ہو تو اس پر انتیس روزے ہی کافی ہوں گے مگر جو غیر معین مہینہ کے روزوں کی نذر مانے اس پر تیس۳۰ دن کے روزے ہی لازم ہوں گے اگرچہ وہ مہینہ انتیس دن کا ہو جس میں روزے رکھے۔(مرقات)