۱؎ عربی میں سوکن کو ضرۃ کہتے ہیں ضرہ ضرۃ سے بنا ہے بمعنی نقصان چونکہ سوکن ضررونقصان کا سبب ہے یا نقصان پہنچانے کی عمومًا کوشش کرتی ہے اس لیے اسے ضرہ کہتے ہیں،اس کا دوسرا نام فطینہ بھی ہے،بمعنی بہت سمجھ دار،ہر سوکن اپنی سوکن کے عیوب سمجھنے میں بڑی فطینہ ہوتی ہے اسی لیے اسے فطینہ کہتے ہیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی میں اپنی سوکن کو جلانے،طیش دلانے کے لیے یہ ظاہر کردوں کہ خاوند بمقابلہ تیرے مجھے زیادہ دیتا ہے مثلًا اپنے میکے کا جوڑا پہن کر دکھاؤں کہ خاوند نے دیا ہے۔
۳؎ یعنی جیسے کوئی شخص امانت یا عاریت کے اعلیٰ کپڑے پہن کر پھرے لوگ سمجھیں کہ یہ اس کے اپنے کپڑے ہیں،پھر بعد میں حال کھلنے میں بدنامی بھی ہو گناہ بھی ایسے یہ بھی ہے یا جیسے کوئی فاسق وفاجر متقی کا لباس پہن کر صوفی بنا پھرے پھر حال کھلنے پر رسوا ہو۔