Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
167 - 1040
حدیث نمبر 167
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ۱؎ تو وہ انکار کردے ۲؎ اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)انہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے،ایسا کوئی شخص نہیں جو اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے پھر وہ انکار کردے،تو آسمان والا اس پر ناراض ہوتا ہے ۴؎ حتّٰی کہ خاوند اس پر راضی ہوجائے ۵؎
شرح
۱؎ رات کے وقت صحبت کے لیے یا کسی اور خدمت کے لیے پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں،اس سے اشارۃً چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ گھر میں چند بستر رکھنا جائز ہے خاوند کا علیحدہ بیویوں کا علیحدہ،دوسرے یہ کہ صحبت میں پردہ علیحدگی بہت ضروری ہے،تیسرے یہ کہ عورت کا مرد کے بستر پر جانا بہتر ہے،بمقابلہ اس کے کہ مرد عورت کے بستر پرجائے عمومًا مرد کا بستر بمقابلہ عورت کے بستر کے پاک و صاف ہوتا ہے عورت کا بستر بچوں کی وجہ سے میلا۔

۲؎ بغیر عذر آنے سے انکار کردے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ بحالت حیض بھی مرد کے بلانے پر پہنچ جائے کہ حیض میں صحبت حرام ہے نہ کہ بوس و کنار اور ساتھ لیٹنا وغیرہ۔(مرقات)

 ۳؎ یہاں رات کو بلانے کا خصوصیت سے ذکر ہے اس لیے ہوا کہ عمومًا بیویوں کے پاس رہنا سہنا رات ہی کو ہوتا ہے دن میں کم ورنہ اگر دن میں خاوند بلائے عورت نہ آئے تو شام تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں،رات کی لعنت صبح کو اس لیے ختم ہوجاتی ہے کہ صبح ہونے پر خاوند کام و کاج میں لگ جاتا ہے رات کا غصہ ختم یا کم ہوجاتا ہے۔

۴؎ اﷲ تعالٰی جس کی حکومت،ملکیت،آسمان میں بھی ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ"اگرچہ زمین و آسمان والا مکان سب ہی اﷲ تعالٰی کی ملکیت ہیں مگر چونکہ آسمان فیض دینے والا ہے زمین فیض لینے والی،اس حیثیت سے آسمان زمین سے اشرف ہے اسی لیے صرف آسمان کا ذکر ہوا،یا آسمان میں رہنے والے فرشتے،تب یہ حدیث پچھلے مضمون کے موافق ہے،اس سے معلوم ہوا کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے زمین والوں کے ہر کھلے چھپے حالات سے خبردار ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا علم ان فرشتوں سے کہیں زیادہ ہے آپ بھی ہمارے ہر ظاہر و پوشیدہ حالات سے باخبر ہیں۔

۵؎ معلوم ہوا کہ خاوند کی رضامیں رب تعالٰی اور فرشتوں کی رضا ہے جب خاوند کی رضا مندی شہوت نفسانی میں اتنی اہم ہے تو دینی امور میں اسے راضی کرنا کتنا ضروری ہوگا،مگر خیال رہے کہ شرعی حرام کاموں میں خاوند تو کیا کسی کی رضا حاصل نہ کرے،لہذا بحالت حیض خاوند کو صحبت نہ کرنے دے۔
Flag Counter