| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎ ہم جانتے ہیں جب تم ہم سے راضی ہوتی تھیں،اور جب تم ہم پر ناراض ہوتیں۲؎ میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کہاں سے پہنچانتے تھے ۳؎ فرمایا جب تم ہم سے خوش ہوتی تو کہتی تھیں محمد مصطفی کے رب کی قسم اور جب تم ہم سے ناخوش ہوتیں تو کہتی تھیں،جناب ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ۴؎ میں بولی ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی تھی ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ جب میری عمر پختہ اور عقل کامل ہوگئی تب مجھے میرے بچپن کا زمانہ یاد دلایا جب کہ میں نئی نئی بیاہ کر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی،رضی اللہ تعالٰی عنہا۔ ۲؎ یہ ناراضی نازکی ہے نہ کہ نفرت کی ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے ناراض ہونا توکفر ہے،محبوبوں کی یہ ناراضی بھی پیاری ہوتی ہے۔شعر ؎ ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرمائے خدا ناز نین حق نبی ہیں تم نبی کی نازنین بچہ باپ پر ناراض ہو کر اپنی ہر ضد پوری کرالیتا ہے،لہذا اس حدیث سے روافض دلیل نہیں پکڑ سکتےاور جناب ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر اعتراض نہیں کرسکتے۔ ۳؎ وحی الہٰی سے یا خاص علامات سے۔ ۴؎ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بچپن شریف کی عقل و فراست پر جان و ایمان صدقے کہ اگر گھریلو معاملہ میں کسی وجہ سے دل میں رنج ہوتا تو لڑائی بھڑائی شور وغیرہ نہ فرماتیں بلکہ رب کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے لیتیں کہ دل کی حالت کا اظہار بھی ہوجائے اور گھر میں بدمزگی بھی نہ پیدا ہو،کاش ! ہماری مائیں،بہنیں حضرت عائشہ صدیقہ سے سبق لیں اور اپنے گھر کو میدان ِ جنگ نہ بنائیں۔ ۵؎ یعنی میرے دل میں آپ کی محبت بدستور رہتی تھی صرف دلی رنج کے اظہار کے لیے ایسا کرتی تھی۔