Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
165 - 1040
حدیث نمبر 165
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور حبشی بچےمسجد میں نیزے بازی کرتے تھے ۱؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اپنی چادر سے پردہ کراتے تاکہ میں آپ کے کان و کاندھے کے درمیان ان کا کھیل دیکھوں ۲؎ پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہتے حتی کہ میں ہی لوٹ جاتی تو تم اندازہ لگالو،نو عمر لڑکی کے کھیل کی شوقین کا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مسجد سے مراد یا تو خارج مسجد ہے جسے رحبہ کہا جاتا تھا چونکہ وہ جگہ مسجد سے بالکل ملی ہوئی تھی اس لیے اسے مسجد فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ خود مسجد میں ہی یہ کھیل ہوتا تھا کیونکہ یہ بظاہر تو کھیل تھا مگر درحقیقت تیر اندازی کی مشق یعنی جہاد کی تیاری تھی اور یہ تیاری عبادت ہے لہذا مسجد میں جائز،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ"۔(اشعہ لمعات،مرقات)

۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ یہ واقعہ پردہ کا حکم آنے سے پہلے کا ہے ورنہ آپ کبھی اجنبی لوگوں کا کھیل نہ دیکھتیں۔(مرقات)فقیر کا خیال ہے کہ پردہ کا حکم آچکنے کے بعد کا ہے ورنہ سرکار عالی چادر اور اپنے جسم شریف سے آڑ نہ کرتے لہذا یا تو وہ حبشی بچے تھے نہ کہ جوان، بچوں کا کھیل دیکھنا جائز چونکہ وہاں جوانوں کے آجانے کا بھی احتمال تھا اس لیے احتیاطًا حضور نے آڑ فرمالی،یا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب مردوں کو حرام تھا کہ اجنبی عورتوں کو دیکھیں مگر عورتوں پر مردوں کا دیکھنا حرام نہ تھا،پھر دو طرفہ پردہ فرض ہوگیا جیسا کہ اپنے مقام پر ظاہر ہے لہذا اس حدیث پر چکڑالوی وغیرہ اعتراض نہیں کرسکتے نہ اپنی بیویوں کو سینما لے جانے والے استدلال کرسکتے ہیں۔

۳؎ یعنی میں نو عمر بچی بھی تھی اور کھیل تماشہ دیکھنے کی شوقین بھی،تم اندازہ لگالو کہ میں کتنی دیر تک کھڑی رہتی ہوں گی مگر قربان جاؤں اس اخلاق مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ خود وہاں سے نہ ہٹتے تھے نہ مجھے اندر جانے کاحکم دیتے تھے بلکہ میری خاطر بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے۔
Flag Counter