۱؎ بنات جمع ہے بنت کی بمعنی بچی و لڑکی،یہاں یا تو ساتھ کھیلنے والی لڑکیاں مراد ہیں تو ب بمعنی مع ہے اور یا مراد گڑیاں ہیں کہ وہ بھی بچیوں کی شکل کپڑے سے بنائی جاتی ہیں اس لیے انہیں بنات کہتے ہیں،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں،کیونکہ سہیلیوں کا ذکر تو آگے آرہا ہے،یہ گڑیاں یا تو آپ اپنے میکے سے لائی تھیں یا حضور کے ہاں آکر خود بنائی تھیں یا خود سرکار عالی نے بنوائی تھیں۔بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچیوں کے لیے گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا جائز ہے کہ یہ دراصل ان کو سینے پرونے اور کھانا تیار کرنے کی تعلیم کا ذریعہ ہے۔
۲؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے بچوں کے کھلونے جائز فرمائے اگرچہ وہ شکل والے ہوں لہذا تصاویر کے حکم سے وہ علیحدہ ہیں۔ینقمعن قمع سے بنا بمعنی چھپ جانا،یہاں چلا جانا مراد ہے کہ چلے جانے سے بھی انسان چھپ جاتا ہے۔
۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ محلہ کی بچیاں میرے ساتھ گڑیاں کھیلتی تھیں جب سرکار عالی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے تو وہ اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور جب حضور باہر تشریف لیجاتے تو ان بچیوں کو ان کے گھروں سے میرے پاس بھیج دیتے تاکہ میرے ساتھ کھیلیں۔