| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زمعہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے ۲؎ پھر اخیر دن میں اس سے صحبت کرے گا۳؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم میں سے کوئی ارادہ کرتا ہے تو اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتا ہے کہ شاید اخیردن اس سے صحبت کرے گا۴؎ پھر انہیں گوز سے ہنسنے کے متعلق نصیحت کی تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے جو خود بھی کرتا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سالے زمعہ آپ کے والد کا نام ہے قرشی ہیں اسدی ہیں۔ ۲؎ سختی و بے دردی کے ساتھ،اس میں اشارۃً فرمایا جارہا ہے کہ اصلاح کے لیے بیوی کو قدرے مار سکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اضْرِبُوۡہُنَّ"کیونکہ خاوند بیوی کا حاکم ہے،حاکم اپنے محکوم کی اصلاح مار سے بھی کرسکتا ہے،استاذ شاگردکو،باپ بیٹے کو مار سکتا ہے۔ ۳؎ یہ کلمہ یا تو گزشتہ حکم کی علت ہے یا اظہار تعجب کے لیے ہے یعنی چونکہ آخر اس عورت سے صحبت و محبت بھی کرتا ہے لہذا اسے غلاموں کی طرح نہ مارو پیٹو،ماتعجب ہے کہ اب تو تم اسے اسی طرح مارو اور پھر عنقریب گلے بھی لگاؤ گے،بزرگ فرماتے ہیں ایک آنکھ لڑنے کی رکھو دوسری ملنے کی۔ ۴؎ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ حدیث منسوخ ہے بعد میں بیویوں کو مارنے پیٹنے کی اجازت دے دی گئی مگر یہ غلط ہے سخت مار سے ممانعت ہے نرم مار کی اجازت۔(مرقات) ۵؎ سبحان اﷲ! کیسا پیارا قاعدہ بیان فرمایا کہ جو کام خود بھی کرتے ہو اس کام کی بنا پر دوسروں پر کیوں ہنستے ہو۔شعر اوی کل انسان یری عیب غیرہ ویعمی عن الھب الذی عوفیہ حضرت حاتم اصم بہرے نہ تھے ایک بار آپ کی بیوی کی ہوا آواز سے نکل گئی تو آپ نے فرمایا زور سے بات کرو میں اونچا سنتا ہوں تاکہ اسے خجالت نہ ہو،پھر آخر تک بہرے ہی بنے رہے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آواز سے گوز(ہوا)نہ نکالے،لیکن اگر کسی کی ہوا آواز سے نکل جائے تو اس پر نہ ہنسے نہ مذاق کرے کہ اس میں مسلمان کو شرمندہ کرنا ہے۔