Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
149 - 1040
حدیث نمبر 149
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو اس کا کھانا کھائے اور پوچھ گچھ نہ کرے اور اس کا پانی پئے اور پوچھ گچھ نہ کرے ۱؎ یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور فرمایا کہ یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس لیے ہے کہ ظاہر یہ ہی ہے کہ مسلمان اسے نہ کھلائے پلائے گا مگر وہ ہی جو اس کے نزدیک حلال ہو۲؎
شرح
۱؎ یعنی خواہ مخواہ اس سے یہ نہ پوچھو کہ یہ کھانا دودھ پانی کہاں سے آیا ہے تیری کمائی کیسی ہے،حرام ہے یا حلال ؟ کہ اس میں بلاوجہ بھائی مسلمان پر بدگمانی ہے اور صاحبِ خانہ کو ایذا رسانی۔ خیال رہے کہ مخلوط آمدنی والے کے ہاں دعوت کھانا درست ہے،اﷲ تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے ہاں کرائی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی پرورش ابوطالب کے ہاں،ان حضرات نے فرعون،ابوطالب کی آمدنی کی تحقیقات نہ فرمائیں۔

۲؎ یعنی صاحبِ خانہ مسلمان ہے اور مسلمان پر اچھا ہی گمان کرنا چاہیے۔
Flag Counter