۱؎ قسم قاف کے فتح سین کے جزم سے ہے بمعنی بانٹنا،حصہ مقرر کرنا،اسی سے ہے تقسیم،یہاں بیوی کے درمیان شب باشی کا حصہ مقرر کرنا،باری مقرر کرنا مراد ہے۔ خیال رہے کہ چند بیویوں میں عدل و انصاف کرنا نہایت ہی اہم واجب ہے۔ دل کے میلان میں تو برابری ناممکن ہے اس کا حساب نہ ہوگا۔رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ"۔رہا عطیہ،خرچہ کپڑے،زیور،ہدیہ،سوغات اور شب باشی ان تمام میں عدل و انصاف واجب ہے،ہاں بچوں والی عورت کو تنہا عورت سے زیادہ خرچ دیا جائے بچوں کی وجہ سے،مرقات نے یہاں فرمایا کہ چار عورتوں سے نکاح کرنا اس وقت حلال ہے جب ظلم کا خطرہ نہ ہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوٰحِدَۃً"اگر تم کو انصاف نہ کرنے کا خطرہ بھی ہو تو ایک ہی نکاح کرو اس خطرہ پر تعدد نکاح سخت ممنوع ہے ۔یہ بھی خیال رہے کہ صحبت یعنی جماع میں برابری واجب نہیں بلکہ ہر بیوی کے پاس رات گزارنے میں برابری ضروری ہے،رات اصل مقصود ہے،دن اس کے تابع،اگر کوئی آدمی رات میں نوکری کرتا ہو تو دن میں رہنے میں برابری کرے،ایک کی باری میں دوسری کے پاس نہ رہے،نہ چند بیویوں کو اکٹھا رہنے پر مجبور کرے،وہ جو احادیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ایک شب میں تمام ازواج پاک کے پاس تشریف لے گئے اور ہر بار غسل کیا،یہ یا تو آپ کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر بیویوں میں عدل واجب نہ تھا یا عدل واجب ہونے سے پہلے ہے یا ان ازواج کی اجازت سے تھا۔(لمعات،مرقات،اشعہ)