روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو ضدیوں کی دعوت نہ قبول کی جائے نہ ان کا کھانا کھایا جائے ۱؎ امام احمد نے فرمایا کہ ضدیوں سے مراد دعوت میں فخر و ریا کے لیے مقابلہ کرنے والے ہیں۲؎
شرح
۱؎ یعنی جو لوگ مقابلہ کی دعوتیں کریں تو ان کے گھر دعوت میں نہ جاؤ اور اگر وہ کھانا تمہارے بھیج دیں تو نہ لو بلکہ واپس کردو تاکہ انہیں نصیحت ہو اس میں تبلیغ بھی اصلاح بھی اور قوم کو تباہی سے بچانا بھی آج شادیوں میں باجے،گانے کھانے جہیز وغیرہ سب ہی میں مقابلہ ہوتے ہیں اور مسلمان تباہ ہورہے ہیں۔ ۲؎ یعنی یہاں متبایین سے بدلہ لینے والے یا احسان کرنے والے مراد نہیں کہ یہ دونوں عمل جائز بلکہ سنت ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے احسانات بھی کیے اور لوگوں کے ہدایا وغیرہ کا بدلہ بھی کیا ہے۔