Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
146 - 1040
حدیث نمبر 146
روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎ وہ حضرت ابن عباس سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ضدم ضدا کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ۲؎ ابوداؤد،اور محی السنہ نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث بروایت عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مرسلًا مروی ہے۳؎
شرح
۱؎ یہ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں بلکہ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں بربر کے رہنے ولے ہیں، فقہائے مدینہ سے ہیں۔

۲؎ یعنی جب دو شخص ایک دوسرے کے مقابلہ میں دعوت کریں ہر ایک یہ چاہے کہ میرا کھانا دوسرے سے بڑھ جائے کہ میری عزت ہو دوسرے کی ذلت تو ایسی دعوت قبول نہ کرے۔مثلًا شادی میں دلہن و دولہا والے مقابلہ میں دعوت کریں تو کسی کی دعوت قبول نہ کرو یا کسی برادری میں کسی کی شادی میں دعوت ہوئی کچھ دن کے بعد دوسرے کے ہاں شادی ہوئی اس نے بڑھ چڑھ کر کھانے پکائے اس نیت سے کہ پہلے کا نام نیچا ہوجائے اور میرا نام اونچا،تو یہ دعوتیں قبول نہ کرو۔بزرگان دین ایسی دعوتیں قبول نہ کرتے تھے آج کل مسلمان اسی مقابلہ کی رسوم میں تباہ ہوگئے اور نام کسی کا بھی نہیں ہوتا۔

۳؎ یعنی صحیح یہ ہے کہ اس کی اسناد میں حضرت ابن عباس کا نام نہیں ہے،حضرت عکرمہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کہا ہے اسی کو مرسل کہتے ہیں کہ تابعی حضور کی طرف نسبت کردیں۔
Flag Counter