۱؎ اس جملہ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ پہلے دن سے مراد شادی و برات کا دن ہے اور حق سے مراد مستحق ہے،یعنی برات والے دن کا کھانا مہمانوں کا حق ہے جو شرکت بارات کے لیے آئے ہیں اور دوسرے دن یعنی زفاف کے بعد ولیمہ کا کھانا سنت ہے مؤکدہ یا مستحبہ اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے دوسرے یہ کہ پہلے دن سے مراد زفاف کے بعد کا دن ہے اور دوسرے دن سے مراد اس دن کے بعد کا دن یعنی زفاف سے سویرے۔ دعوت ولیمہ حق درست ہے اور دوسرے دن کا کھانا بھی سنت ہے یعنی بدعت یا خلاف سنت نہیں، تیسرے یہ کہ زفاف کے سویرے کھانا دینا فرض یا واجب ہے جس میں بلاوجہ شرکت نہ کرنا گناہ دوسرے دن کا بھی کھانا سنت ہے،یہ تیسرے معنی ان کے مذہب پر ہیں جو ولیمہ کو واجب کہتے ہیں فقیر کے نزدیک پہلے معنی زیادہ قوی ہیں،چوتھے یہ کہ زفاف کے سویرے ولیمہ کا کھانا دینا برحق ہے،لیکن اگر کسی وجہ سے اس دن نہ دے سکے تو دوسرے دن دے دینا بھی سنت ولیمہ میں شامل ہے۔
۲؎ یعنی مسلسل تین دن تک کھانا دینا محض نام و نمود ہے ثواب نہیں یا زفاف کے تیسرے دن کھانا دینا سنت نہیں صرف نام و نمود ہے یہ حدیث حضرت امام مالک کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں ولیمہ سات روز تک ہوسکتا ہے۔(از مرقات)
۳؎ یعنی جو دنیا میں محض اپنی ریا کاری کے لیے کوئی کام کرے گا تو اﷲ تعالٰی کل قیامت میں اس کو رسوا فرمائے گا،اعلان ہوگا کہ یہ ریا کار تھا،یا جو دنیا میں محض ناموری کے لیے نیکی کرے گا اس کی جزا صرف یہاں کی ناموری ہوگی قیامت میں کوئی ثواب نہ ملے گا،ثواب کے لیے اخلاص چاہیے۔
۴؎ یہ حدیث طبرانی نے حضرت ابن عباس سے نقل فرمائی اس کا مضمون یہ ہے کہ شادی میں ایک دن کھا نا سنت ہے دو دن کا کھانا افضل اور تین دن کا کھانا دکھلاوا۔(مرقات)