۱؎ ان صحابی کانام معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ تمام صحابہ عادل متقی ہیں اس لیے یہ نامعلومیت مضر نہیں علاوہ صحابی کے اگر اور کسی راوی کا پتہ نہ لگے تو حدیث مجہول نامقبول ہوتی ہے۔
۲؎ یعنی جب تمہارے دو پڑوسی بیک وقت دعوت دیں اور دونوں دعوتیں متعارض ہوں تو زیادہ قریبی پڑوسی کی دعوت قبول کیجئے کہ اس کا حق زیادہ ہے،اس قرب میں زیادہ دروازہ کا قرب معتبر ہے نہ کہ گھر کا قرب رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی"۔
۳؎ یعنی نزدیک دور کا فرق جب ہوگا،جب کہ دونوں بیک وقت آپ کو دعوت دیں لیکن اگر ان میں سے ایک آپ کے پاس پہلے پہنچ جائے دوسرا بعد میں تو پہلے کی دعوت قبول کیجئے کہ پہلا مقدم ہے اور حقدار ہے۔