| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دعوت دی جائے پھر وہ قبول نہ کرے تو اس نے اﷲ اور رسول کی نافرمانی کی ۱؎ اور جو بغیر دعوت پہنچ جائے تو وہ چور ہو کر گیا ۲؎ اور لٹیرا ہو کر نکلا ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی جو بلاوجہ صرف تکبر کی وجہ سے دعوت قبول نہ کرے وہ نافرمان ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ ۲؎ کیونکہ جیسے چور بغیر اجازت مالک گھر میں گھس بھی جاتا ہے مال بھی لے لیتا ہے،ایسے ہی یہ ہے۔ ۳؎ سبحان اﷲ! کیسے پاکیزہ اخلاق کی تعلیم ہے کہ بلاوجہ دعوت قبول نہ کرنا تکبر شیخی ہے اور بغیر دعوت پہنچ جانا کمینہ پن ہے دونوں سے بچنا چاہیے۔