۱؎ بی بی زینب رضی اللہ عنہا کا نام شریف پہلے مبرد تھا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بدل کر زینب رکھا،آپ زینب بنت جحش ہیں آپ کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب ابن ہاشم ہیں اولًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ سے کیا تھا انہوں نے کچھ عرصہ بعد طلاق دے دی بعد عدت حضور انور نے خود ہی جناب زید کو اپنے نکاح کا پیغام دے کر جناب زینب کے پاس بھیجا حضرت زید بی بی زینب کے گھر پہنچے اور ان کی طرف پشت کرکے کھڑے ہوئے اور حضور کا پیغام دیا آپ بولیں کہ میں اپنے رب سے مشورہ کرلوں۔یہ کہہ کر آپ اپنے گھر کی مسجد میں عبادت میں مشغول ہوگئیں ادھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی" فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا"۔اس آیت کے نزول پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم بغیر اجازت آپ کے گھر میں داخل ہوئے بی بی زینب فخر کرتی تھیں کہ تمام بیبیوں کا نکاح ان کے عزیزوں نے فرش پر کیا میرا نکاح میرے رب نے عرش پر کیا۔منافقین نے طعنہ دیا کہ حضور نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔تب یہ آیت کریمہ اتری"مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ"الایہ۔