۱؎ ولیمہ ولم سے بنا ملنا جمع ہونا اسی سے التیام زخم کا بھر جانا مل جانا نکاح کے بعد جو دعوت طعام دی جاتی ہے اسے ولیمہ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی خاوند بیوی کے ملنے کی دعوت ہے۔ حق یہ ہے کہ ولیمہ سنت ہے شبِ عروسی کے بعد کیا جائے بہتر ہے کہ زفاف کے سویرے کو ہو،امام مالک کے ہاں ایک ہفتہ کے اندر اندر کیا جاسکتا ہے۔(از اشعہ)
حدیث نمبر 131
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف پر زردی کا اثر دیکھا ۱؎ تو فرمایا یہ کیا عرض کیا میں نے ایک عورت سے گٹھلی بھر سونے پر نکاح کرلیا ہے ۲؎ فرمایا اﷲ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی ہو ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ان کے جسم یا کپڑوں پر زرد رنگ کا اثر ملاحظہ فرمایا جو زوجہ سے اختلاط کے باعث بے قصد لگ گیا تھا ورنہ حضرت صحابہ کرام شادی میں اپنے پر زعفران نہ ملتے تھے کہ مرد کے لیے یہ رنگ ممنوع ہے ہاں شادی سے پہلے دولہا دولہن کو جو ابٹن ملا جاتا ہے جس میں خوشبو اورصفائی والی چیزیں ہوتی ہیں یہ بلا کراہت جائز ہے کہ یہ صابون کی طرح جسم کی صفائی نرمی کے لیے ہے۔بعض صابون بہت خوشبودار ہوتے ہیں جیسے لکس(Lux)وغیرہ ایسے ہی یہ ابٹن ہے۔ ۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ نواۃ ایک خاص وزن کا نام ہے جو پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے جیسے نش بیس درہم کا اور اوقیہ چالیس درہم کا مگر یہ درست نہیں نواۃ کے معنی ہیں چھوارے کی گٹھلی وہ ہی یہاں مراد ہے۔ ۳؎ حق یہ ہے کہ یہ امر استحبابی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (۱) ناکح کو دعائے برکت دینا سنت ہے(۲) ولیمہ کرنا سنت ہے (۳)ولیمہ رخصتی کے بعد بھی ہوسکتا ہے(۴)ولیمہ بقدر طاقت زوج ہو اس کے لیے مقدار مقرر نہیں بعض علماء کے ہاں ولیمہ واجب ہے وہ حضرات یہ امر وجوب کے لیے مانتے ہیں مگر حق وہ ہی ہے جو ہم نے عرض کیا۔