Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
128 - 1040
حدیث نمبر 128
روایت ہے حضرت علقمہ سے وہ حضر ت ابن مسعود سے راوی ۱؎ کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے کچھ مقرر نہ کیا اور نہ اس سے صحبت کی حتی کہ مرگیا ۲؎ تو جناب ابن مسعود نے فرمایا کہ اس عورت کے لیے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ہے جس میں نہ کمی ہو نہ زیادتی اور اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے میراث بھی ۳؎ تو معقل ابن سنان اشجعی اٹھے ۴؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے قبیلہ کی ایک عورت بروع بنت واشق کے متعلق ایسا ہی فیصلہ فرمایا۵؎جیسا آپ نے فیصلہ کیا تب ابن مسعود اس سے بہت خوش ہوئے۔۶؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)۷؎
شرح
۱؎ غالبًا یہ علقمہ ابن ابی علقمہ ہیں علقمہ کا نام بلال ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں مشہور تابعی ہیں واﷲ اعلم۔علقمہ ابن ابی وقاص نہیں وہ تو صحابی ہیں۔

۲؎ صورت مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک عورت سے بغیر مہر نکاح کیا یا تو مہر کا ذکر ہی نہیں کیا یا مہر کی نفی کردی کہ مہر کچھ نہ دوں گا یا ایسی چیز مہر مقرر کی جو مہر بننے کے قابل نہیں مثلًا ہوا یا پانی کے گلاس پر نکاح کیا پھر خلوت صحیحہ سے پہلے مر گیا تو اس کی عورت کو مہر ملے گا یا نہیں اگر ملے گا تو کیا ؟

۳؎ خلاصہ جواب یہ ہوا کہ اس عورت کو پورا مہر مثل ملے گا عدت وفات واجب ہوگی یعنی چار ماہ دس دن اور چوتھائی متروکہ مال میراث میں ملے گا۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فتویٰ تو دیا مگر دل میں خیال کرتا تھا کہ نہ معلوم صحیح ہے یا غلط کیونکہ آپ نے اس کے متعلق حدیث نہیں سنی تھی،قرآن کریم سے یہ حکم مستنبط کیا تھا کہ کیا یہ خبر استنباط صحیح ہے یا نہیں۔(مرقات مع زیادت)

۴؎ آپ صحابی ہیں فتح مکہ کے دن غزوہ میں شریک تھے قوم اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں جنگ حرہ کے دن اپنے بیٹے کے ساتھ شہیدہوئے(اشعہ)

۵؎ یعنی یہ ہی صورت مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بالکل یہ ہی حکم دیا تھا،آپ کا اجتہاد حدیث کے موافق ہے۔خیال رہے کہ یہ حکم وفات کی صورت میں ہے، اگر ایسی عورت کو خلوت سے پہلے طلاق ہوجائے تو نہ اس پر عدت ہے نہ مہر بلکہ کپڑوں کا ایک جوڑا ملے گا طلاق کی عدت خلوت سے واجب ہوتی ہے اور مہر مثل کبھی بھی آدھا ہو کر نہیں ملتا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے ان کا مذہب بعینہ وہی ہے بعض اماموں کے ہاں اس صورت میں عورت کو مہر نہیں ملتا۔

۶؎ روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود یہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ اسلام کے بعد ایسی خوشی آپ کو کبھی نہ ہوئی تھی۔

۷؎ بیہقی نے فرمایا کہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے جو سب صحیح ہیں۔واﷲ اعلم!
Flag Counter