Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
127 - 1040
حدیث نمبر 127
روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے ۱؎ کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتوں پر نکاح کیا ۲؎ تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم دو جوتوں کے عوض اپنے نفس و مال سے راضی ہوگئیں ۳؎ وہ بولیں ہاں تو حضور نے یہ نکاح جائز قرار دیا ۴؎(ترمذی)۵؎
شرح
۱؎ آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،صحاب ہجرتین ہیں، بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل ہوئے۔(اشعہ)

۲؎ اس طرح کہ خاوند نے نکاح کے وقت اسے صرف جوتوں کا جوڑا دیا۔

۳؎ یعنی اس چڑھاوے پر تم خوش ہو یا کچھ اور بھی چاہتی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت سے اجازت نکاح لیتے وقت خاوند کے نام کے ساتھ مہر بلکہ چڑھاوے کا بھی ذکر کردینا بہتر ہے مال سے مراد یا تو جہیز کا مال ہے یا عورت کا مملوکہ مال کیونکہ عورت اپنی جان مال جہیز سب کچھ لے کر خاوند کے پاس جاتی ہے عورت کا مال مرد کا ہی ہوتا ہے اسی لیے خاوند اپنی زکوۃ اپنی بیوی کو نہیں دے سکتا۔

۴؎ بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ اگر عورت اپنا مہر بالکل معاف کردے یا مہر مثل سے بھی کم کردے تو اسے حق ہے،وہ ا س حدیث کے معنی یہ کرتے ہیں کہ صرف جوتوں پر راضی ہوگئی۔

۵؎ امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس حدیث کو امام ترمذی نے صحیح کہا مگر صحیح نہیں کیونکہ اس کی اسناد میں عاصم ابن عبید ہیں ابن معین،ابن جوزی نے انہیں ضعیف کہا، ابن حبان نے فرمایاکہ عاصم کثیر الخطاء ہے اگر یہ حدیث صحیح ہو تو بھی جوتے مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاواتھے اور ہوسکتا ہے کہ یہ جوتے دس درہم قیمت کے ہوں۔
Flag Counter