روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے ۱؎ کہ وہ عبداﷲ ابن جحش کے نکاح میں تھیں۲؎ تو وہ زمین حبشہ میں ہی وفات پاگئے ۳؎ ان بی بی کا نکاح نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کر دیا ۴؎ اور حضور کی طرف سے انہیں چار ہزار مہر دیا گیا اور ایک روایت میں ہے چار ہزار درہم مہر دیا انہیں شرحبیل ابن حسنہ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیج دیا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ ام حبیبہ کا نام شریف رملہ ہے ابوسفیان کی صاحبزادی امیر معاویہ کی بہن مسلمانوں کی والدہ یعنی زوجہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، آپ کی ماں کا نام صفیہ بنت عاص یعنی حضرت عثمان کی پھوپھی آپ کا انتقال مدینہ منورہ ۴۴ھ میں ہوا، فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے،رضی اللہ عنہا۔ ۲؎ یہاں صاحب مشکوۃ سے غلطی ہوئی عبداﷲ ابن جحش تو صحابی ہیں جنگ احد میں شریک ہوئے،حضرت ام حبیبہ ان کے بھائی عبید اﷲ ابن جحش کے نکاح میں تھیں۔یہ عبید اﷲ پہلے تو مسلمان ہوئے اور حبشہ کو ہجرت کر گئے مگر وہاں جا کر عیسائی ہوگئے اور عیسائیت پر ہی مرے یہ دونوں بھائی حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کے بھائی ہیں۔(مرقات و اشعہ وغیرہ) ۳؎ عبید اﷲ ابن جحش زمین حبشہ میں عیسائیت کی حالت میں فوت ہوئے،حضرت ام حبیبہ اسلام پر قائم رہیں۔ ۴؎ اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم حجاز میں تشریف فرما رہے اور حضرت ام حبیبہ حبشہ میں،نجاشی بادشاہ نے ام حبیبہ سے اجازت لے کر مجمع کے سامنے ان کا نکاح حضور انور سے کردیا اور نکاح کی اطلاع حضور کو بھیج دی حضور نے یہ نکاح مجمع صحابہ میں قبول فرمالیا اسے غائبانہ نکاح کہتے ہیں اب بھی جائز ہے نجاشی شاہ حبش کا لقب تھا ان کا نام اصحمہ تھا حضور کا زمانہ پایا زیارت نہ کرسکے اس لیے تابعین میں سے ہیں انہوں نے مسلمانوں کی بڑی خدمات انجام دیں،اشعۃ اللمعات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرو بن امیہ ضمری کو اپنا وکیل نکاح کرکے حبشہ بھیج دیا تھا اس صورت میں تو نجاشی ام حبیبہ کے وکیل نکاح ہوئے اور عمرو ابن امیہ حضور کے وکیل مگر پہلی روایت زیادہ قوی ہے۔ ۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس نکاح کے موقعہ پر خالد ابن سعید ابن عاص کے ذریعہ نجاشی نے بی بی ام حبیبہ کو حضور کی طرف سے پیغام نکاح دیا۔ابرہہ لونڈی حضرت جعفر ابن ابی طالب اور دوسرے مسلمان نکاح میں شریک ہوئے حضور کی طرف سے نجاشی نے اور ام حبیبہ کی طرف سے خالد نے خطبہ نکاح پڑھا اور چار سو دینار یعنی چار ہزار درہم اپنی جیب سے نجاشی نے مہر ادا کیا بعد میں تمام حاضرین کو کھانا کھلایا پھر حضرت شرحبیل کے ساتھ حضور کی خدمت میں ام حبیبہ کو بھیج دیا،خیال رہے کہ یہ خالد بی بی ام حبیبہ کے والد یعنی ابو سفیان کے چچا ہیں اور نجاشی نے یہ نکاح اس لیے کیا تاکہ ابوسفیان حضور کی طرف مائل ہوں جنگ ہلکی پڑ جائے یہ نکاح ۶ھ میں ہوا،حسنہ شرحبیل کی والدہ کا نام ہے۔