| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سعد ا بن ابی وقاص سے کہ ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ۱؎ اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو یہ کیوں کرتا ہے وہ بولا کہ اس کے بچے پر خوف کرتا ہوں ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ کام مضر ہوتا تو فارسیوں اور رومیوں کو نقصان دیتا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ عزل کے معنی ہیں علیحدگی و دوری یہاں اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:میں اپنی بیوی سے علیحدہ رہتا ہوں کہ صحبت نہیں کرتا یا اس سے صحبت تو کرتا ہوں مگر پانی علیحدہ گراتا ہوں تاکہ وہ حاملہ نہ ہوجائے کیونکہ اس کا بچہ شیر خوارہے حمل رہ جانے سے دودھ خراب ہوجائے گا۔ ۲؎ اس جملہ کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ میری بیوی حاملہ ہے اب صحبت کرنے میں خطرہ ہے کہ حمل کو نقصان ہو یا حاملہ کو نقصان ہو، جس سے حمل ضائع ہوجائے یا میرا بچہ شیر خوار ہے خطرہ ہے کہ صحبت کرنے سے وہ حاملہ ہوجائے جس سے دودھ کم بھی ہوجائے اور بھاری بھی کہ بچہ بھوکا بھی رہے اور بدہضمی بھی ہو اسی کو غیلہ کہتے ہیں یعنی شیر خوارگی کے زمانہ میں عورت سے صحبت کرنا۔ ۳؎ یعنی فارسی و رومی لوگ بحالت حمل اپنی بیویوں سے صحبت کرتے ہیں اور عورتیں حاملہ ہوجانے پر بھی بچہ کو دودھ پلاتی رہتی ہیں، بچہ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا لہذا تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ غیلہ بچہ کو مضر ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ تجربہ معتبر ہے اور تجربہ پر احکام جاری ہوجاتے ہیں۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فارسی و رومی لوگ حاملہ بیویوں سے صحبت کرتے ہیں ان کے حمل کو نقصان نہیں ہوتا ۔معلوم ہوا کہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم قوموں کے اندرونی حالات سے بھی خبردار ہیں علماء کو چاہیے کہ زمانہ و اہل زمانہ کے حالات سے باخبر رہیں۔