Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
110 - 1040
حدیث نمبر 110
روایت ہے حضرت جذامہ بنت وہب سے ۱؎ فرماتی ہیں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کچھ لوگوں کے ساتھ آئی ۲؎ حضور فرمارہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں غیلہ سے منع کردوں ۳؎ مگر میں نے فارسیوں اور رومیوں میں غور کیا تو وہ لوگ اپنی اولاد کا غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو یہ عمل کچھ بھی نقصان نہیں دیتا۴؎ پھر لوگوں نے حضور سے عزل کے متعلق پوچھا تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ خفیہ زندہ درگور کرنا ہے ۵؎ اور یہ زندہ درگور کرنا اس آیت میں ہے کہ جب زندہ دابی ہوئی بچی سے سوال کیا جائے گا ۶؎(مسلم)
شرح
 ۱؎ آپ جذامہ بنت وہب اسدیہ ہیں حضرت عائشہ کی بھانجی مکہ معظمہ میں ایمان لائیں پھر اپنی جماعت کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئیں۔(اکمال،اشعہ، مرقات) 

۲؎ یعنی اپنے کنبہ کے لوگوں کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں۔

۳؎  غ کے کسرہ سے بھی ہے اور فتح سے بھی جو عورت دودھ پلارہی ہو یا حاملہ ہو اس سے صحبت کرنے کو غیل کہتے ہیں۔ مشہور ہے کہ ان دونوں زمانوں میں صحبت مضر ہوتی ہے مگر یہ غلط ہے جیسا کہ تجربہ شاہد ہے۔

۴؎ یعنی اطباء بھی کہتے ہیں اور عرب میں مشہور بھی ہے کہ غیل نقصان دہ ہے اسی لیے حضور انور نے چاہا کہ اس کو شرعًا ممنوع قرار دیں کیونکہ چیز شرعًا بھی منع ہے زہر کھانا حرام ہے کہ یہ خودکشی ہے مگر فارس و روم کا عمل معلوم فرما کر پتہ لگالیا کہ یہ خیال غلط ہے غیل کچھ مضر نہیں اس لیے اسے منع نہ فرمایا ۔معلوم ہوا کہ حضور مالک احکام ہیں۔

۵؎ جیسے پیدا شدہ بچی کو زندہ دفن کردینا ظاہری واد ہے اور عزل کرکے نطفہ سے بچہ نہ بننے دینا اپنا نطفہ ضائع کردینا چھپا ہوا واد، بعض علماء عزل کو منع فرماتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر حق یہ ہے کہ عزل جائز ہے یہ حدیث منسوخ ہے۔(مرقات)

۶؎ آیت کا مضمون یہ ہے کہ قیامت میں زندہ گاڑی ہوئی بچی سے سوال ہوگا کہ تجھے تیرے ماں باپ نے کس قصور میں زندہ گاڑا تھا وہ عرض کرے گی کہ بلا قصور تب ان ماں باپوں کو سخت سزا دی جائے گی،سرکار کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہی سوال عزل کرنے والے سے بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عمل بھی واد دینے یعنی زندہ درگور کردینے کے مشابہ ہے۔
Flag Counter