Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
107 - 1040
حدیث نمبر 107
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں گئے ۱؎ تو ہم نے عرب کے قیدیوں میں سے کچھ قیدی پائے ۲؎ ہم کو عورتوں کی رغبت تھی اور ہم پر بغیر بیوی رہنا دشوار ہو ا ہم نے عزل کو پسند کیا چنانچہ ہم نے عزل کرنے کی ٹھانی ۳؎ مگر ہم نے سوچا کہ کیا ہم عزل کریں حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے درمیان ہیں ان سے دریافت کرنے سے پہلے ۴؎ تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ تم پر عزل کرنے میں کوئی حرج نہیں ۵؎ نہیں ہے کوئی روح جو قیامت تک آنے والی ہو مگر وہ آکر رہے گی ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بنی مصطلق قبیلہ بنی خزاعہ کی ایک جماعت کا نام ہے جو خزیمہ ابن سعد ابن عمر کی اولاد سے ہے خزیمہ کا لقب مصطلق تھا کہ یہ بہت خوش آواز تھا، بنی خزاعہ میں سب سے پہلے گانا اسی نے گایا یہ غزوہ        ۵ھ؁ میں واقع ہوا اس غزوہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کو تہمت لگائی گئی اور آپ کی براءت میں سورہ نور کی اٹھارہ آیات نازل ہوئیں جس کا واقعہ مشہور ہے۔

۲؎ اس حدیث کی بناء پر شوافع کہتے ہیں کہ مشرکین عرب جہاد میں قید کیے جاسکتے ہیں اور انہیں لونڈی غلام بنایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ بنی مصطلق عرب ہیں اور ان کی عورتیں لونڈیاں بنائی گئیں۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ عرب کے کفار قیدی بنا کر لونڈی غلام نہیں بنائے جاسکتے کہ وہ لوگ محترم ہیں امام ابوحنیفہ کی دلیل وہ حدیث ہے " امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اﷲ۔الناس سے مراد مشرکین عرب ہیں،یہ حدیث یا تو اس حدیث سے منسوخ ہے یا یہ گرفتار شدگان نسل کے عربی نہ تھے باہر کے تھے قبیلہ بنی مصطلق میں رہتے تھے من العرب کا یہ ہی مطلب ہے۔

۳؎ تاکہ لونڈیوں سے صحبت بھی کرسکیں اور حمل بھی قائم نہ ہو، جس سے ان کی بیع ہبہ وغیرہ ہوسکے۔

۴؎ یہ حضرات سمجھے کہ عزل حرام ہوگا کہ اس میں منی کا ضائع کرنا ہے جیسے جلق یعنی ہاتھ سے منی نکالنا حرام ہے کہ اس میں پانی ضائع کرنا ہے۔

۵؎ یہاں حرج سے مراد خطرہ ہے نہ کہ ممانعت شرعی یعنی عزل نہ کرنا خطرناک نہیں اور عزل کرنا مفید نہیں کیونکہ جو بچہ دنیا میں آنے والا ہے وہ آکر رہے گا لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس جملہ کے اور بہت سے معنی کیے گئے ہیں بعض نسخوں میں لا نہیں ہے ان تفعلوا ہے بعض نے فرمایا کہ لا ہے مگر زائدہ ہے معنی یہ ہیں کہ عزل کرنے میں تم پر حرج نہیں جائز ہے۔

۶؎ یعنی تمہارے عزل کرنے کی وجہ سے آنے والی روح آنے سے نہ رکے گی لہذا عزل کرنا اگرچہ حلال ہے مگر ہے بے کار۔
Flag Counter