Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
106 - 1040
حدیث نمبر 106
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت گار ہے ۱؎ اور میں اس کے پاس جاتا ہوں ۲؎ اور یہ ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہوجائے ۳؎ تو فرمایا اگر تو چاہے تو اس سے عزل کر مگر اس پر گزرے گا وہی جو اس کے مقدر میں ہے ۴؎ پھر وہ شخص کچھ ٹھہرا پھر حاضر خدمت ہوکر بولا کہ لونڈی تو حاملہ ہوگئی ۵؎ تب فرمایا کہ ہم نے تو تمہیں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے پہنچے گا ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ جاریہ لڑکی کو بھی کہتے ہیں لونڈی کو بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے اسی لیے فرمایا کہ وہ خادمہ ہے آزاد لڑکی نہیں بلکہ لونڈی ہے۔

۲؎ یعنی کہ میں اس سے صحبت کرتا ہوں جیسے مولیٰ اپنے لونڈی سے کیا کرتا ہے۔

۳؎ یعنی مجھے یہ خوف ہے کہ اگر عزل نہ کروں تو شاید وہ حاملہ ہوجائے اور پھر نہ تو اس کی بیع جائز رہے نہ ہبہ وغیرہ بلکہ میری موت کے بعد آزاد ہوجائے کیونکہ جس لونڈی سے مالک کا بچہ ہوجائے وہ ام ولد بن جاتی ہے کہ مولیٰ کی موت کے بعد آزاد ہوتی ہے اس کی بیع وصیت ہبہ وغیرہ جائز نہیں مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو عزل کرلیا کروں۔

۴؎ سبحان اﷲ! کیسی نفیس تعلیم ہے یعنی عزل کرنا ممنوع تو نہیں مگر بے کار ضرورہے کہ عزل سے تقدیر بدل نہیں جاتی جس قطرہ سے بچہ بننا ہے وہ بن کر رہے گا تمہاری تدبیر تقدیر کو نہیں بدل سکتی اس سے معلوم ہوا کہ لونڈی سے عزل جائز ہے اور اس میں خود مولیٰ مختار ہے لونڈی کی اجازت ضروری نہیں۔

۵؎ یعنی عزل کرنے کے باوجود وہ حاملہ ہوگئی۔

۶؎ یعنی تدبیر سے تقدیر نہیں بدلتی لہذا عزل کے باوجود حمل قائم ہوسکتا ہے اس طرح کہ منی کا ایک قطرہ شرمگاہ میں گر جائے اسے خبر نہ ہو دیکھا گیا ہے کہ بعض اولاد والوں نے اولاد سے بچنے کے لیے فرنچ لیدر(French Lather)صحبت کے وقت استعمال کیا مگر حمل قائم ہوگیا آج کل خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے ولادت روکنے کی تدبیریں کی جارہی ہیں مگر تجربہ کہہ رہا ہے کہ ولادتیں پہلے سے بھی زیادہ ہورہی ہیں۔حضور والا کے فرمان عالی اٹل ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزل کرنے والے کا بچہ صحیح النسب ہوگا۔خاوند یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ میں نے توعزل کیا تھا لہذا یہ بچہ میرا نہیں،حرامی ہے  کہ عزل سے بھی حمل قائم ہوجاتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ عزل بے کار سی چیز ہے مگر جائز ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو عزل سے منع فرمایا اور نہ اس بچہ کے نسب کے انکار کی اجازت دی۔
Flag Counter