روایت ہے حضرت قعقاع سے کہ جناب کعب احبار فرماتے ہیں ۱؎ کہ اگر میں تین کلمات نہ کہہ لیتا ہوتا تو یہود تو مجھے گدھابنا دیتے ۲؎ ان سے عرض کیا گیا وہ کیا ہیں فرمایا پناہ لیتا ہوں میں اﷲ کی عظمت والی ذات کی جس سے بڑی کوئی چیز نہیں ۳؎ اور اﷲ کے پورے کلموں کی جن سے کوئی نیک کار و بدکار آگے نہیں بڑھ سکتا اور اﷲ کے اچھے ناموں کی جو مجھے معلوم ہیں اور معلوم نہیں ان تمام کی شر سے جنہیں رب نے پیدا کیا پھیلایا اور ٹھیک کیا ۴؎ (مالک)
شرح
۱؎ قعقاع تابعی ہیں،کعب احبار یہود کے بڑے عالم تھے،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،زمانہ فاروقی میں ایمان لائے لہذا دونوں حضرات تابعی ہیں۔ ۲؎ یعنی میرا اسلام یہود پر اتنا گراں ہے اور وہ میرے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ اگر میرے پاس یہ عمل نہ ہوتا تو جادو گر یہودی اپنے جادو کے زور سے میری شکل یا میری عقل گدھے کی سی کر دیتے۔خیال رہے کہ جادو سے عقل بھی خراب کی جاسکتی ہےاور اگر جادو قوی ہو تو شکل بھی بدل جاتی ہے،فرعون کے جادوگروں نے رسّوں اور بلّوں کو سانپ بنادیا تھا مگر حقیقت تبدیل نہیں ہوتی،بعض شعبدہ باز مٹی کو روپیہ بنادیتے ہیں مگر پھر پیسہ پیسہ لوگوں سے مانگتے ہیں اور معجزہ میں حقیقت تبدیل ہوجاتی ہے عصائے موسوی واقع میں سانپ بن جاتا تھا اس کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔(از مرقات و لمعات) ۳؎ یعنی میں اﷲ کی ذات اور اس کے ان کلموں کی پناہ لیتا ہوں کہ جسے ان کی حفاظت نصیب ہو جائے وہ ہر برے بھلے کے شر سے بچ جائے ان کے حصار کو نہ توڑ سکے۔برے سے مراد شیاطین ہیں اور بھلے سے مراد انسان کہ یہ بذات خود تو بھلا ہے مگر اس میں کبھی شر پیدا ہوجاتی ہے،کلمات اﷲ کے معنے بار ہا بیان کیے جاچکے۔ ۴؎ اس دعا میں اﷲ تعالٰی کی ذات اور اﷲ کے کلمات یعنی آیاتِ قرآنیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور اﷲ تعالٰی کے ناموں کی پناہ لی گئی ہے۔معلوم ہوا کہ ماسوی اﷲ کی پناہ لینا جائز ہے،خَلَقَ،ذَرَءَ اور بَرَءَ تینوں قریب المعنے ہیں،عدم سے وجود بخشنا خلق ہے، موجودات کو عالم میں پھیلانا ذَرَءَ اور ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق صورت و سیرت بخشنا بَرَءَ۔(اشعہ)