۱؎ یعنی جو روزانہ صبح و شام یا دن میں ایک بار یا عمر میں ایک بار تین دفعہ یہ کہے"اللّٰھُمَّ ادْخِلْنِی الْجَنَّۃَ" اور تین دفعہ یہ کہہ لے"اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ"تو خود جنت اس کے لیے داخلہ کی دعا کرے گی اور خود دوزخ اپنے سے پناہ کی بارگاہ الٰہی میں عرض کرے گی۔حق یہ ہے کہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،جنت کے درو دیوار،برگ و بار،وہاں کے حور و غلمان و فرشتے سبھی اس لیے دعا کرتے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَ تَقُوۡلُ ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ" آگ کہے گی اے خدا مجھے اور زائد کردے اور فرماتا ہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"ہر چیز رب تعالٰی کی تسبیح وتمحید کرتی ہے،حضور علیہ السلام سے پتھروں،لکڑیوں نے کلام کیا لہذا نہ تو یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ جنت بزبان حال کہتی ہے اور نہ یہ کہ وہاں کے حورو غلمان و ملائکہ کہتے ہیں۔(لمعات و مرقات)