| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت مسلم ابن ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ میرے والد ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر،فقیری اور قبر کے عذاب سے تو میں بھی پڑھنے لگا ۱؎ آپ نے فرمایا اے میرے بچے تو نے یہ دعا کس سے لی میں نے کہا آپ سے ۲؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے ۳؎ (ترمذی،نسائی)لیکن نسائی نے نماز کے بعد کا ذکر نہ کیا اور احمد نے اس حدیث کے الفاظ روایت کیے اور ان کے نزدیک ہر نماز کے پیچھے ہے۔
شرح
۱؎ نماز کے بعد سے مراد ہے سلام پھیرنے کے بعد،کفر سے ہر قسم کا کفر مراد ہے اور فقر سے فقیری کے فتنے یا کفران نعمت یعنی دل کا فقر مراد ہے۔عذابِ قبر سے وہ اعمال مراد ہیں جو عذابِ قبر کا باعث ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سامنے تلاوت قرآن اوردعاؤں کا ورد چاہیےتاکہ وہ اچھی باتیں سیکھیں،اب تو مسلمان بچوں کو گانا بجانا سکھاتے ہیں۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ دعائے ماثورہ جو بزرگوں سے منقول ہو اس دعا سے بہتر ہے جو ہم خود بنائیں کیونکہ اس میں الفا ظ اور زبان دونوں کی تاثیریں جمع ہوتی ہیں۔ ۳؎ یعنی میں بھی اس دعا کا موجد نہیں ہوں بلکہ حضور علیہ السلام کا ناقل ہوں۔اس حدیث کی بنا پر صوفیاء فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی دعائیں محض سن کر پڑھنا بھی مفید ہیں اگر کسی عامل کی اجازت بھی مل جائے تو بہت اچھا۔