| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی خواب سے گھبرا جائے ۱؎ تو کہہ لے میں اﷲ کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں ۲؎ اس کی ناراضی، اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کی شر اور شیطانوں کے وسوسوں سے ۳؎ اور ان کی حاضری سے تو تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچے گا۴؎ عبداﷲ ابن عمرو اپنی بالغ اولاد کو یہ سکھادیتے تھے اور ان میں سے نابالغوں کے گلے میں کسی کا غذ پر لکھ کر ڈال دیتے تھے ۵؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کے یہ لفظ ہیں۔
شرح
۱؎ یا سوتے میں برا خواب دیکھ کر گھبرائے یا سوتے وقت برے خواب کے خطرے سے گھبرائے پہلی صورت میں تو اس برے خواب کا ظہور نہ ہوگا،دوسری صورت میں یہ شخص بدخوابی سے بچے گا۔ ۲؎ پورے کلمات کی شرح گزر چکی کہ اس سے مراد اسماء الہیہ ہیں یا آیات قرآنیہ یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کہ آپ کلمات اﷲ ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کلیم اﷲ ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اﷲ۔ ۳؎ عقاب سے مراد عذاب یا حجاب ہے اور بندوں کی شر سے مراد ظلم،گناہ وغیرہ اور شیطان کے وسوسوں سے مراد فتنے اور برے عقیدے ہیں،بہت ہی جامع و مکمل دعا ہے۔ ۴؎ اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ اگر سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی گئی تو بدخوابی سے حفاظت ہوگی ا ور اگر برا خواب دیکھ کر پڑھی تو وہ خواب باطل ہوجائے گا ان شاءاﷲ اس کا ظہور نہ ہوگا،یعنی حضرت عمرو ابن شعیب کے دادا حضرت عبداﷲ بن عمر ابن العاص سمجھ دار بچوں کو تو یہ دعا یاد کرادیتے تھے تاکہ وہ خود پڑھ لیا کریں اور نا سمجھ بچے جو نہ یاد کرسکیں ان کے گلے میں اس دعا کا تعویذ بنا کر ڈال دیتے تھے،یہاں بالغ سے مراد سمجھ دار ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ آیات قرآنیہ اسمائے الہیہ اور دعوات ماثورہ کا جو فائدہ پڑھنے سے ہوتا ہے وہ ہی فائدہ بفضلہ تعالٰی لکھ کر ساتھ رکھنے سے ہوتا ہے لُو کے زمانے میں لوگ اپنے ساتھ پیاز رکھتے ہیں تو لُو سے محفوظ رہتے ہیں جب پیاز لُو سے بچا سکتی ہے کہ اسماء الہیہ پاس رکھنے سے آفات سے بچاؤ ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ تعویذ لکھنا ہاتھ یا گلے میں باندھنا سنتِ صحابہ ہے۔جن تعویذ گنڈوں سے منع کیا ہے وہ کفار کے جنتر منتر کے تعویذ ہیں جن میں شرکیہ الفاظ ہوں۔تیسرے یہ کہ دعاؤں کے الفاظ بھی نافع ہیں اور ان کے نقوش بھی،بلکہ وہ کاغذ بھی جن پر یہ نقوش لکھے جائیں،بعض دعائیں لکھ کر دھو کر ان کا پانی پلایا جاتا ہے ان کی اصل بھی یہ حدیث بن سکتی ہے۔اس پانی اور اس کاغذ کو اﷲ کے نام سے نسبت ہوگئی تو شفا بن گئے،حضرت جبریل کی گھوڑی کی ٹاپ کی خاک نے سونے کے بچھڑے میں جان ڈال دی،ایوب علیہ السلام کے پاؤں کا دھون شفا تھا۔(قرآن حکیم)آبِ زمزم شفا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ایڑی سے جاری ہوا۔(حدیث پاک)