Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
92 - 671
حدیث نمبر92
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے  ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے میر ے والد سے اے  حصین تم آج کل کتنے معبودوں کو پوجتے ہو میرے والد بولے ساتھ چھ زمین کے ۲؎ اور ایک آسمان کا تو فرمایا کہ ان میں سے خوف و امید کس سے رکھتے ہو بولے اس آسمان والے سے ۳؎ فرمایا اے حصین اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تمہیں دو  دعائیں ایسی سکھاؤں جو تمہیں بہت فائدہ دیں ۴؎ فرماتے ہیں جب حصین مسلمان ہوگئے تو عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے وہ دعائیں سکھائیے جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۵؎ فرمایا یہ پڑھا کرو الٰہی مجھے میری ہدایت کا الہام کر اور مجھے میرے نفس کی شرارت سے پناہ دے ۶؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ کا نام عمران،کنیت ابوالخیر ہے،خزاعی کعبی ہیں،خیبر کے سال اپنے والد حصین کے ساتھ ایمان لائے،عہدِ فاروقی میں بصرے بھیجے گئے،پھر وہاں رہ گئے،بصرےٰ ہی  میں  ۵۲ھ؁ میں وفات ہوئی۔ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عمران جیسا پرہیزگار و افضل کوئی بصرہ میں نہ تھا،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے۔(کتاب الکاشف مولانا عبدالحق،از حاشیہ ا کمال)

۲؎ یعنی لات،منات،یغوث،یعوق،نسر،عزےٰ ان تمام کا ذکر قرآن شریف میں ہے یہ تمام بت عورتوں کے نام پر تھے مگر چونکہ ان میں اﷲ تعالٰی کو ساتواں معبود کہا گیا تو مؤنث نہیں ہے اس لیے سبعۃ ت سے کہا جو مذکر کے لیے بولا جاتا ہے۔

۳؎ یعنی مصیبت میں فریاد،حاجت میں داد  اس رب سے چاہتے ہیں جو آسمان والا ہے یعنی اﷲ تعالٰی سے باقی یہ چھ تو اعزازی ٹمرکیری(Temporary) ہیں۔ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اﷲ تعالٰی آسمان میں رہتا ہے،چونکہ ابھی یہ کافر تھے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی کسی بات کی تردید نہ فرمائی لہذا اس خاموشی سے یہ لازم نہیں کہ اسلام کا بھی یہ عقیدہ ہے۔

۴؎ سبحان اﷲ!کیسی نفیس تبلیغ ہے کسی کو لالچ دے کر کسی کو  ڈرا کر،کسی کو اپنا دیوانہ بنا کر دعوت اسلام دی،حضرت بلال کو کیا دے کر بلایا،اپنا عشق دے کر اپنا شوق دے کر،یوں کہوسب کچھ دے کر ان کا سب کچھ دکھ و  درد  دور کردیا۔

۵؎ یعنی حضرت حصین اس وقت تو ایمان نہ لائے مگر تیر نظر کے گھائل ہوچکے تھے اس گھاؤ نے اپنا کام کردیا،کچھ عرصہ بعد ایمان لائے تو یہ وعدہ یاد  دلایا۔جا گ لگانے کے کچھ دیر بعد دہی جمتا ہے۔

۶؎ ہر شخص کی خاص ہدایت جداگانہ ہے جو رب تعالٰی نے اس کے نصیب میں رکھی ہے،کسی کو صرف ایمان کی ہدایت،کسی کو تقویٰ کی،کسی کو عرفان کی،کسی کو عشق رحمان کی۔مقصد یہ ہے کہ مولٰی میں ایمان تو لے آیا،اب میرے نصیب میں جو مخصوص ہدایت تو نے کی ہے وہ عطا فرما اور میرا نفس شرارتوں کی جڑ ہے اس کی شر سے مجھے بچا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضرت حصین ہدایت تو پاچکے تھے پھر ہدایت کیوں مانگی۔ہدایت کی تحقیق اس کے اقسام ہماری تفسیر نعیمی میں"اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡم"کی شرح میں ملاحظہ فرمائیے۔خیال رہے کہ شیطان کی شرارت سے نفس کی شرارت زیادہ ہے کہ شیطان تو  لاحول وغیرہ سے بھاگ جاتا ہے،یہ مار آستین کسی عمل سے قبضہ میں نہیں آتا ہے،صرف ر ب تعالٰی کے فضل سے آتا ہے۔
Flag Counter