۱؎ طمع کے لفظی معنے ہیں لوگوں سے مال کی امید ر کھنا اور طبع لوہے کی وہ زنگ ہے جو اسے مٹی بنادے(اشعہ)مگر یہاں طمع سے مراد نفس کا اپنی خواہشات میں محو ہوجانا ہے اور طبع سے مراد وہ عیب ہیں جو زائل نہ ہوسکیں یعنی خدایا مجھے اس دنیوی حرص سے بچالے جو حریص کو ذلیل کردیتی ہے اور اسے ذلت کا احساس بھی نہیں ہوتا،طبع مہر لگانے کو بھی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیۡہَا"ظاہری گناہ کبھی دل پر مہر لگ جانے کا باعث بن جاتے ہیں خصوصًا حرص دنیا،مہر لگنے سے انسان برے بھلے میں تمیز نہیں کرتا۔حرص کا اناہم یہ ہی ہے کہ حریص اچھا برا،حلال حرام ہر طرح کا مال رگڑ جاتا ہے،یہ شخص کتے سے بدتر ہے کہ کتا سونگھ کر چیز میں منہ ڈالتا ہے مگر یہ بغیر سوچے ہی۔