Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
89 - 671
حدیث نمبر89
روایت ہے حضرت ابوالیسر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا مانگا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں عمارت گرنے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اوپر سے گرجانے اور ڈوب جانے جل جانے ۱؎ اور بڑھاپے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ شیطان مجھے وسوسے دے موت کے وقت ۲؎ اور تیری پناہ لیتا ہوں  اس سے کہ تیری راہ میں پیٹھ پھیرتا مروں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ سانپ سے ڈسا ہوا  مروں۳؎ (ابوداؤد،نسائی )اور دوسری روایت میں یہ زیادتی ہے کہ غم سے ۴؎
شرح
۱؎ اگرچہ یہ چاروں قسم کی موتیں شہادت ہیں مگر چونکہ ناگہانی آفتیں بھی ہیں جن میں انسان مبتلا ہو کر کبھی گھبرا کر ایمان کھو بیٹھتا ہے اور ان سے موت ناگہانی بھی ہے جن میں توبہ اور تیاری موت کی مہلت نہیں ملتی اس لیے ان سے پناہ مانگی جیسے جہاد عبادت ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے امن و عافیت کی دعائیں مانگی ہیں اور ہر بیماری میں اجر ہےمگر سرکار نے اس سے پناہ مانگی (از لمعات)

۲؎  بڑھاپے سے مراد برابر بڑھاپا ہے جس میں مت کٹ جاتی ہے۔خبط سے مراد ہے دیوانگی یا بے عقلی،شیطان کا زیادہ  زور موت کے وقت ہوتا ہے کیونکہ اسی پر اعمال کا مدار ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان دیوانگی اور بیماریاں انسان میں پیدا کرسکتاہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"لہذا حضرات انبیاءکرام و اولیاءاﷲباذن پروردگار شفا بھی دے سکتے ہیں۔

۳؎ یہ دعا بھی تعلیم امت کے لیے ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جہاد میں پیٹھ پھیرنے اور وفات کے وقت شیطان کی مس سے محفوظ ہیں۔لدیغ ہر زہریلے جانور کے کاٹے ہوئے کو کہتے ہیں بچھو ہو یا سانپ۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موت سے پناہ مانگی ہے لہذا وہ واقعہ اس دعا کے خلاف نہیں جو طبرانی نے سیدنا علی مرتضٰی سے نقل کیا کہ ایک بار حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بچھو نے کاٹ لیا تو  آپ نے اس پر پانی اور نمک لگایا اور سورۂ کافرون،فلق و ناس دم کی۔(مرقات)

۴؎ غم سے مراد وہ دنیوی سخت تکلیف ہے جو فکرِ آخرت سے روک دے۔
Flag Counter