۱؎ یعنی وہ دعائیہ کلمات سکھائیے جن کے ذریعہ برائیوں سے رب تعالٰی کی پناہ لوں،تعویذ اس کاغذ کے پرزے کو بھی کہتے ہیں جس میں قرآنی آیت یا دعائیں لکھ کر اپنے پاس ر کھیں کہ اس سے مقصود بھی پناہ لانا ہےاس لفظ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲؎ بری چیز،گانے بجانے وغیرہ سننا کان کا شر ہیں،جھوٹ اور غیبت اور نقصان دہ یا بکاسر باتیں کرنا زبان کا شر اور حسد،کینہ،برے عقیدے دل کا شر ہے اور زنا و اسباب زنا میں مبتلا ہونا منی کا شر ہیں۔منی سے مراد وہ ہی مشہور چیز ہے جس کے خارج ہونے سے غسل واجب ہوتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ منی مَنْیَۃٌکی جمع ہے بمعنی موت یا اُمْنِیَۃٌ کی جمع ہے یعنی آرزو و تمنا خدایا بری قسم کی موتوں سے تیری پناہ،یا دنیوی لمبی امیدوں سے تیری پناہ مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔(مرقات،واشعۃ اللمعات)